ریاض سہیل، عدنان عادل بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
 | | | حالی مہینوں میں بلوچستان آپریشن پر عوامی احتجاج ہوتے رہے ہیں |
بزرگ بلوچ قومپرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے کے بعد کراچی میں ریڈ الرٹ کیا گیا ہے۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے مختلف علاقوں میں اچانک چیکنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ڈی آئی جی پولیس کراچی مشتاق شاھ کا کہنا ہے کہ شہر میں پولیس اور رینجرز کا گشت بڑھایا گیا ہے، غیرملکی دفاتروں اور اہم علاقوں کی طرف جانے والی سڑکوں کی ناکہ بندی کی جائیگی۔ ان کے مطابق یہ ریڈ الرٹ دوسرے حکم تک جاری رہیگا۔ دوسری طرف شہر کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہے، لیاری میں کچھ افراد نے احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلائے مگر پولیس نے پہنچ کر انہیں منتشر کردیا۔ پنجاب میں سکیورٹی الرٹ ادھر لاہور سمیت پورے پنجاب میں بھی اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ لاہورمیں پولیس کے سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس خواجہ خالد فاروق نے کہا ہے کہ لاہور میں سینیئر پولیس افسران خود گشت کررہے ہیں اور سیکورٹی کی نگرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے آئی جی پولیس ضیاء الحسن نے پورے صوبہ میں پولیس کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں داخل ہونے اور شہر سے باہر جانے والے تمام راستوں پر پولیس کی نفری تینات کردی گئی ہے اور بس اسٹینڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دوسرے اہم مقامات کی نگرانی کی جارہی ہے۔ بلوچستان اور پنجاب میں رینجرز کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔ ایک سال پہلے ستمبر سنہ دو ہزار پانچ میں لاہور میں اچھرہ کے علاقہ میں ایک بائیسکل سے بندھا ہوا بم پھٹنے سے چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری پولیس نے بلوچ عسکریت پسندوں پر عائد کی تھی۔ |