ایٹمی فضلہ ’ڈمپ‘ کرنے پر تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ ہماری مٹی نے پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن بدلے میں ہمیں پسماندگی، غربت اور اب زہر دیا جارہا ہے‘۔ یہ الفاظ ہیں جذباتی ہوتے ہوئے نوجوان نذیر احمد بزدار کے جو بغلچور کے ان چار مقامی لوگوں میں شامل ہیں جو اپنے علاقے میں جوہری توانائی کے ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کی طرف سے مبینہ طور پر ایٹمی فضلہ رکھنے کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نذیر احمد کا کہنا تھا ’ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے لوگوں کو ایٹم بم گرا کر ایک ہی دفعہ مار دیا گیا لیکن ہمارے لیئے نسل در نسل مرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے‘۔ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ بغلچور سے سال انیس سو اٹھہتر سے لیکر تقریباً سن دو ہزار تک ایٹمی قوت کے حصول کی خاطر یورینیئم نکالی جاتی رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بغلچور غالباً وہ پہلا علاقہ تھا جہاں سے پاکستان کو جوہری منصوبوں کے لیئے خام مال یعنی یورینیئم ملنا شروع ہوا۔ سن دو ہزار سے بغلچور کے پہاڑوں سے یورینیئم نکالنے کا عمل بند ہوچکا ہے۔ لیکن گذِشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں نذیر احمد، محمد نصیر شاہ، لعل محمد اور مقصود نے ڈیرہ غازی خان کے سیشن جج کی عدالت میں درخواست دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے (پی اے ای سی) اپنے مختلف مراکز سے ایٹمی فضلہ ٹرکوں پر لاد کر بغلچور میں رکھ رہا ہے۔
سیشن جج نے اس سال فروری کے مہینے میں ایٹمی فضلے سے متعلقہ یہ مقدمہ مزید سماعت کے لیئے چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیج دیا۔ سپریم کورٹ نے انتیس مارچ کے روز اٹارنی جنرل کے ذریعے پی اے ای سی حکام سے جواب طلب کیا تو جوہری توانائی کے ادارے نے پندرہ یوم کی مہلت مانگتے ہوئے عدالت سے اس مسئلہ پر مزید سماعت کو خفیہ رکھنے کی استدعا کی جو کہ منظور کر لی گئی۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی مزید سماعت کی تاریخ کا ابھی تک تعین نہیں کیا۔ سیشن کورٹ میں داخل کرائے گئے اپنے جواب میں پی اے ای سی کے مقامی ذمہ داران نے یہ تو تسلیم کیا تھا کہ ’مواد‘ رکھا جارہا ہے لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ اسے زیر زمین گہری خندقوں میں رکھا گیا ہے اور یہ کہ اس سے علاقے پر کوئی تابکاری اثرات نہیں ہیں۔ لیکن مقامی لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ دوسرے علاقوں سے لا کر بغلچور میں رکھے جانے والے مواد کے تابکاری اثرات نہیں۔ اپنے خدشات کے اظہار کے لیئے انہوں نے پی اے ای سی ہی کی ایک رپورٹ کی کاپی دکھائی جس کے مطابق بغلچور میں رکھے جانے والا مواد ’ایکٹو ویسٹ‘ یعنی تابکار فضلہ ہے۔
نذیر احمد کے ساتھی درخواست گذار لعل محمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے آٹھ سال تک بغلچور میں پی اے ای سی کے شعبہ جیالوجی میں کام کیا ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا علاقہ کئی سو سال تک تابکاری کے اثرات میں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے ادارے نے پانچ سال سے بغلچور میں کام بند کر رکھا ہے لیکن یورینیم کی اکثر کانوں کو ویسے ہی کھلا رہنے دیا ہے جو ماحول کے لیئے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے بغلچور میں بدبودار مٹی اور ریت کی ایسی ڈھیریاں دکھائیں جن کے بارے ان کا کہنا تھا کہ یہ ’ییلو کیک‘ یعنی خام یورینیم کے حصول کے عمل تقطیر کے دوران بچ جانے والے کیمیائی اجزاء اور ریت پر مشتمل ہیں۔ ’مہلک کیمیائی اجزاء سے آلودہ یہ مٹی بارشوں کے پانی کے ساتھ بہہ کر ندی نالوں میں آجاتی ہے جن کے پانی پر یہاں کے انسانوں اور جانوروں دونوں کا انحصار ہے‘۔
نصیر شاہ کا کہنا تھا کہ جب سے جوہری فضلہ بغلچور میں لا کر ڈمپ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے علاقے میں نو مولود بچوں کی شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ سرطان اور آنکھوں اور سانس کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔انہوں نہ بتایا کہ دودھ دینے والے جانوروں میں دودھ کی پیداوار میں شدید کمی آئی ہے جبکہ بعض جانوروں کے سم یعنی پاؤں غیر معمولی طور پر بڑھنے لگ گئے ہیں اور اس مسئلے کا شکار جانور دیکھتے ہی دیکھتے دنوں میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈمپ کیئے جانے والا مواد اگر مضر صحت یا تابکار نہیں تو پھر اسے دور دراز علاقوں سے لا کر دشوار گذار علاقے بغلچور میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اسے انہیں علاقوں یعنی کندیاں اور خوشاب وغیرہ میں ہی کیوں نہیں رکھ لیا جاتا؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بغلچور میں پی اے ای سی کی کالونی کی بیرکوں میں دوسرے علاقوں سے لائے گئے جوہری فضلے کے بیسیوں ڈرم پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جوہری توانائی کا ادارہ مقامی آبادی کو یا تو یقین دہانی کرائے کہ ڈمپ کیا جانے والا مواد تابکار اور مضر نہیں یا پھر بغلچور کو جوہری فضلہ اور اس کے تابکاری اثرات سے پاک کیا جائے۔ |
اسی بارے میں جوہری فضلہ، سماعت ملتوی29 March, 2006 | پاکستان ری ایکٹر نہیں خرید رہے:دفترخارجہ03 January, 2006 | پاکستان ایران مخالف تحقیق: پاکستان شریک22 August, 2005 | پاکستان سینٹریفیوجز باہر بھیجنے پر غور25 March, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||