چرنوبل حادثے کی یاد میں خاموشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے ٹھیک بیس سال قبل یوکرین میں دنیا کے بدترین چرنوبل جوہری پلانٹ کے حادثے کی یاد میں یوکرین کے عوام نے متاثرین کی یاد میں بدھ کو ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس حادثے کے وقت یعنی چھبیس اپریل انیس سو چھیاسی کو مقامی وقت کے مطابق صبح ایک بج کر تئیس منٹ پر الارم بجے تھے اور بدھ کو ٹھیک اس وقت یوکرین میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اس یاد کے لیئے ایک چھوٹے سے گرجا گھر کے باہر جو متاثرین کی یاد میں بنایا گیا ہے، موم بتیاں روشن کی گئیں۔ اس تقریب میں سینکڑوں افراد شریک ہیں جن میں یوکرین کے صدر وکٹر یوشینکو بھی شامل تھے۔ دھماکے سے جوہری پلانٹ کی چھت اڑ گئی تھی جس سے تابکار مواد سابقہ سویت یونین میں پھیلا تھا۔ صدر یوشینکو نے اس حادثے سے نمٹنے کے لیئے بھیجے جانے والوں اور اس حادثے کے متاثرین کی یاد میں پھول چڑھائے۔ اس سے ایک گھنٹہ قبل روس کے دارالحکومت ماسکو میں بھی ایک تقریب اس مقام پر منعقد کی گئی جہاں حادثے سے متاثر ہونے والوں کو رکھا گیا تھا۔ چرنوبل حادثہ چار جوہری ری ایکٹروں میں سے ایک پر ہوا تھا۔ تاہم تب کے روسی حکام نے یہ کہہ کر حادثے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا کہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوئی۔ تاہم دھماکے سے دو ہفتے بعد جب تابکاری زیادہ پھیلی تو پہلی مرتبہ روس نے یہ کہا تھا کہ ایک بہت بڑی آفت کا امکان ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق چرنوبل کی وجہ سے تقریباً نو ہزار افراد کو کینسر کا مرض لاحق ہوا اور وہ ہلاک ہوئے۔ تاہم گرین پیس کی ایک رپورٹ کے مطابق جسے گزشتہ ہفتے شائع کیا گیا، ان افراد کی تعداد ترانوے ہزار تھی۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان دیگر امراض کو بھی شمار میں رکھا جائے جو تابکاری کی وجہ سے لوگوں کو لاحق ہوئے تو متاثرین کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ آج بھی اس مقام سے جہاں چرنوبل کا تباہ شدہ ری ایکٹر پتھر میں بند کر کے رکھا ہوا ہے، انیس میل پر محیط علاقے میں جانے پر پابندیاں ہیں | اسی بارے میں چرنوبل: ’ایک لاکھ ہلاکتیں‘ 18 April, 2006 | نیٹ سائنس سویڈن: چرنوبل اثرات سے کینسر21 November, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||