جوہری فضلہ، سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے آج بدھ کو جوہری توانائی کے ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے پنجاب کے دور افتادہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں مبینہ طور پر جوہری فضلہ دفن کرنے کے معاملے کی سماعت جوہری ادارے کی اس درخواست پر موخر کر دی ہے کہ اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کے لئے اسے کم از کم پندرہ روز کا وقت دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری پر مشتمل تین رکنی بنچ نے جوہری ادارے کی درخواست تسلیم کرتے ہوئے اس کیس کی رپورٹ آنے تک سماعت ملتوی کر دی اور ہدایات جاری کی ہیں کہ اس رپورٹ کو عدالت میں پیش ہونے تک خفیہ رکھا جائے۔ جوہری ادارے کی پیروی ڈپٹی اٹارنی جنرل ناہیدہ محبوب الٰہی نے کی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس معاملے کا نوٹس ڈیرہ غازی خان کے ایک ڈسٹرکٹ اور سیشن جج جلال الدین اکبر کی درخواست پر لیا ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس کے مطابق ڈیرہ غازی خان ڈسٹرکٹ کی یونین کونسل مبارکاں کے علاقے بغلچور میں جوہری فضلہ دفن کیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف زمینوں بلکہ انسانوں اور مویشیوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں بغلچور کے رہائشیوں کی طرف سے نذیر احمد، مقصود احمد، نصیر احمد اور لعل محمد نے پٹیشن داخل کی تھی جس کے مطابق ’اٹامک انرجی کمیشن ان کے علاقے میں جوہری فضلہ ڈال رہے ہیں جس سے علاقے کا ماحول زہر آلود ہو چکا ہے‘۔
سائلان کے مطابق اٹامک انرجی کمیشن ان کے آبائی علاقے بغلچور سے انیس سو ستتر سے لیکر سال دو ہزار تک یورینیم نکالتا رہا۔ بعد میں یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے ایٹمی فضلہ ٹرکوں پر لاد کر مخلتف جگہوں سے بغلچور میں لایا جا رہا ہے جبکہ مقامی آبادی کو اس حوالے سے کسی بھی مرحلے پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر محفوظ طریقے سے ایٹمی فضلہ سرنگوں میں رکھنے سے انسانی و حیوانی زندگی اور ماحول کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اپنی درخواستوں میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ جوہری توانائی کے ادارے کو بغلچور میں ایٹمی فضلہ دفن کرنے سے منع کیا جائے۔ اس سے قبل مقامی قبائلی انتظامیہ کو دی گئی ایک درخواست میں بغلچور سے تعلق رکھنے والے کئی افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ ’تابکاری‘ کے اثرات ان کے جانوروں پر پڑنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ ان کے بال تیزی سے جھڑ رہے ہیں جبکہ سم یعنی پاؤں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ پولیٹکل اسسٹنٹ کے حکم پر ماتحت عملہ نے جو رپورٹ دی اس میں بغلچور کے مقامی لوگوں کے دعوؤں کی تصدیق کی گئی تھی۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے ادارے کے ڈیرہ غازی خان میں جنرل مینجر محمد بیگ نے عدالت میں جواب دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار دباؤ ڈال کر کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ان کی طرف سے اٹھایا گیا مسئلہ خالصتاً تکنیکی نوعیت کا ہے جو کہ مقامی انتظامیہ سے متعلقہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ کوئی بھی کام مفاد عامہ کے خلاف کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جو مواد بھی ڈرموں میں ڈال کر زیر زمین رکھا گیا ہے اس کے ابھی تک علاقے پر کوئی تابکاری اثرات سامنے نہیں آئے۔ ایک سائل لعل خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ علاقے میں چار سو سے زائد جوہری فضلے سے بھرے ڈرم دفن کیئے جا چکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد ڈرم ابھی بھی علاقے میں کھلے عام پڑے ہوئے ہیں جن کو دفن کرنے کے لیئے گڑھے کھودے جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں جوہری فضلہ، معاملہ سپریم کورٹ میں29 March, 2006 | آس پاس ’امریکہ بھارت معاہدہ ایک دھچکہ‘04 March, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان پاک امریکہ توانائی مذاکرات 13 March, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان انڈیا پاکستان بات سفارشات پر ختم22 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||