BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 March, 2006, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ

قصوری اور بوڈمین
بات چیت میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور ہوگا
پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں پاک امریکہ تعاون سے متعلق پیر کے روز ہونے والی بات چیت میں مختلف تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے اور بات چیت جاری رہے گی۔

دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے بارے میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان کی بریفنگ سے ایسا لگ رہا ہے کہ کسی بھی تجویز پر تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری، پانی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے اور گیس کی فراہمی پر بات چیت کی گئی لیکن ان کے مطابق ایران سے گیس پائپ لائن کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی۔

ایک روزہ دورے پر پیر کے روز پاکستان پہنچنے والے امریکی توانائی کے وزیر سیموئل بوڈمین کی سربراہی میں وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کی۔

امریکی وفد میں اسلام آباد میں تعینات ان کے سفیر اور دیگر حکام شامل تھے جبکہ پاکستانی وفد میں خارجہ، پیٹرولیم اور پانی و بجلی کی وزارتوں کے سیکرٹری اور جوہری توانائی کے کمیشن کے سربراہ بھی شامل تھے۔

امریکہ کے توانائی کے وزیر کا حالیہ دورۂ پاکستان امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف کی ملاقات میں طے پانے والے معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے تھا۔ مہمان وزیر نے بعد میں وزیراعظم شوکت عزیز سے بھی ملاقات کی اور وہ اسلام سے ماسکو کے لیے روانہ ہورہے ہیں۔

’انرجی سکیورٹی پلان‘
 پاکستان نے دو ہزار پانچ سے تیس تک پچیس سالہ ’انرجی سکیورٹی پلان‘ بنایا ہے اور اس کے مطابق موجودہ بجلی کی کھپت سے آٹھ گنا زیادہ ضرورت ہوگی

دو صفحے کے طویل مشترکہ بیان میں دونوں ممالک کے بہتر تعلقات کا تفصیل سے ذکر موجود ہے اور بتایا گیا ہے کہ امریکی توانائی کے وزیر نے پاکستانی وزیرِ خارجہ کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے دو ہزار پانچ سے تیس تک پچیس سالہ ’انرجی سکیورٹی پلان‘ بنایا ہے اور اس کے مطابق موجودہ بجلی کی کھپت سے آٹھ گنا زیادہ ضرورت ہوگی اور اسے پورا کرنے کے لیے حکومت کوشش کر رہی ہے۔

بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ ’امریکی وزیر کو اس دورے میں توانائی کے مختلف معاملات پر کام کرنے والے پاکستانی اعلیٰ حکام سے بات چیت کا موقع فراہم ہوا‘۔

واضح رہے کہ امریکی حکام ماضی میں ایران سے گیس پائپ لائن بچھانے کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں لیکن صدر بش نے چار مارچ کو کہا تھا کہ انہیں اس پر اعتراضات نہیں۔ امریکی حکام سے منسوب ان بیانات میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے بجائے قطر یا ترکمانستان سے گیس لی جائے۔

پاکستان کہتا رہا ہے کہ قطر سے گیس پائپ لائن سمندر سے لانی ہوگی اور اس پر لاگت بہت آئے گی اور ترکمانستان سے پائپ لائن افغانستان سے آنی ہے اور وہاں امن و امان کا مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں قیمت اور لاگت سمیت پاکستان ایران سے پائپ لائن لانے کو ترجیح دیتا رہا ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان شہری جوہری پروگرام میں تعاون کے معاہدے کے بعد پاکستان کی بھی خواہش اور کوشش ہے کہ امریکہ اس شعبے میں اس سے تعاون کرے لیکن ڈاکٹر قدیر خان کے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکہ کو اس بارے میں تحفظات ہیں جس کا امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کھل کر اظہار کر چکی ہیں۔

اسی بارے میں
’توانائی کی ضرورت ہے‘
28 February, 2006 | پاکستان
امریکہ اور تیل کی سیاست
10 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد