BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 March, 2006, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا پاکستان بات سفارشات پر ختم

انڈیا پاکستان بات چیت فائل فوٹو
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان میں حال ہی میں بحال کردہ مشترکہ کمیشن کے تحت ماحولیات، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے بارے میں ورکنگ گروپس کی دو روزہ بات چیت کسی بڑے اعلان کے بغیر ختم ہوگئی۔

منگل کو ماحولیات اور بدھ کے روز سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے ممکنہ تعاون کے بارے میں وفود کی سطح پر تجاویز کا تبادلہ ہوا۔ بات چیت کے اختتام پر یہ کہتے ہوئے، کوئی مشترکہ بیان نہیں جاری کیا گیا کہ وہ اپنی سفارشات خارجہ سکریٹریوں کو پیش کریں گے۔

بھارتی وفد کے سربراہ وائی ٹی کمار نے صحافیوں کے ایک گروپ سے مختصر سی بات چیت میں بتایا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے، دونوں ممالک کے سائنسدانوں کے سیمینار منعقد کرنے اور ایک دوسرے کی تجربات سے استفادہ کرنے، دیہی علاقوں میں مواصلات کی سہولیات کی فراہمی سمیت مختلف تجاویز پر بات چیت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے سائنس اور ٹیکنالوج کے سیکریٹری راما مورتی نے ’دی ہندو‘ اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے پاکستان کو ’وگیان ریل‘ یعنی معلوماتی ریل چلانے کی تجویز دی ہے اور اب جواب کا انتظار ہے‘۔

ان کے مطابق دونوں ممالک چھ چھ ڈبوں والی اس ریل میں سائنس اور ٹیکنالوجی، جوہری کمیشن اور دیگر شعبوں کی تیار کردہ چیزیں رکھ کر دونوں ملکوں میں چلائیں تاکہ عوام کو باشعور بنایا جاسکے۔

لیکن اس بارے میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے تاحال کچھ نہیں بتایا کہ انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان انیس سو تیراسی میں مشترکہ کمیشن قائم کیا گیا تھا اور انیس سو نواسی تک اس کے صرف تین اجلاس ہوئے۔ گزشتہ سترہ برسوں میں مشترکہ کمیشن کا یہ پہلا اجلاس ہوا۔

یہ کمیشن تعلیم، صحت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اطلاعات، ماحولیات، سائنس و ٹیکنالوجی سمیت آٹھ غیر سیاسی شعبوں میں تعلقات بہتر بنانے کی غرض سے قائم ہوا تھا۔ پہلے اس کے چار شعبوں کے بارے میں ورکنگ گروپ تھے جو اب بڑھا کر آٹھ کردیے گئے ہیں۔

کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ اگر سماجی اور سائنسی شعبوں میں ترقی اور تعاون کے لیے اس کمیشن کو فعال کیا جائے تو دونوں ممالک میں زیادہ سے زیادہ اعتماد بحال کیا جا سکے گا۔

اسی بارے میں
’حکومتیں پیچھےرہ گئیں‘
02 February, 2006 | پاکستان
کنٹرول لائن پر بات چیت
28 October, 2005 | پاکستان
قربتیں اور فاصلے
15 March, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد