BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 February, 2006, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومتیں پیچھےرہ گئیں‘

جسونت سنگھ
جسونت سنگھ ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں
بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی نائب صدر جسونت سنگھ نے کہا ہے کہ
پاکستان اور بھارت کے عوام آگے بڑھ گئے ہیں اورحکومتیں پیچھے رہ گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں ایک دوسرے سے ملنے کی تڑپ دونوں طرف کی حکومتوں کو عوام کی آواز سننے پر مجبور کردے گی۔

جمعرات کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دیئے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سابق وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ یہاں نیک خواہشات کا پیغام لے کر آئے ہیں۔

انہوں نے صدر پرویز مشرف کو ایک خط لکھ کر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ زمینی راستے سے پاکستان آنا چاہتے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ صدر مشرف نے صرف دس دن کے اندر اس کا جواب دیا اور اجازت بھی دے دی جس پر وہ ان کے شکر گذار ہیں۔

وہ بھارت کی راجیہ سبھامیں اپوزیشن رہنما بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے خیال میں نہیں تھا کہ کھوکھرا پار کے زمینی راستے کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور کافی کوششوں کے بعد یہ دروازہ کھل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھوکھراپار سے آگے راستہ بھی نہیں ہے مگر عمرکوٹ تک لوگ گاؤں سے باہر کھڑے ہوکر جس طرح ان کا استقبال کر رہے تھے اور یہ ہی صورتحال بلوچستان میں بھی تھی ایسا استقبال ان کی زندگی میں کبھی نہیں ہوا حالانکہ یہاں کے لوگوں نے انہیں کبھی دیکھا بھی نہ ہوگا۔

جسونت سنگھ نے کہا کہ پاکستان آمد کے بعد وہ جن جذبات اور احساسات سے گزر رہے ہیں اسے بیان کرنے کے لیےان کے پاس الفاظ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تاریخ کے ایک بہت بڑے لمحے سےگذر رہے ہیں جس کی گہرائی کو میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقے باڑ میر راجستھان میں مسلمان بھی رہتے ہیں۔ ان کے سرحد کے اس پار رشتہ دار ہیں اگر وہ ان سے ملنے جائیں تو چار ہزار کلومیٹر کا مفاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جبکہ کھوکھراپار سے یہ راستہ چالیس کلومیٹر ہے۔

بلوچستان میں جسونت کااستقبال کیا جا رہا ہے

انہوں نے بتایا کہ وہ بھارت کے پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے ایک بڑے وفد کے ساتھ بلوچستان میں ہنگلاج یاترا کی۔

انہوں نے کہا کہ رن آف کچھ کے علاقے سے بھی راستہ کھلنا چاہیے کیونکہ اس سے گجرات اور سندھ کو ایک اور راستہ مل جائےگا۔ اسی طرح ممبئی اور کراچی میں فیری سروس شروع ہونی چاہیے جس سے دونوں ممالک میں کاروبار میں اضافہ ہوگا۔

اس سے قبل جسونت سنگھ نے جمعرات کی صبح پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کا پروگرام ملتوی کردیا۔

صبح سے ہی نشریاتی اداروں کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد مزار قائد پر جمع ہوگئی تھی جنہیں بعد ازاں محکمہ اطلاعات کی جانب سے پروگرام ملتوی کیئے جانے کے بارے میں بتایا گیا مگراس کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

اسی بارے میں
جسونت سنگھ اردو سیکھ رہے ہیں
23 October, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد