BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 January, 2006, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسونت سنگھ بلوچستان یاترا پر

جسونت سنگھ بہت عرصے سے نانی ماں کے مندر جانا چاہتے تھے
جسونت سنگھ بہت عرصے سے نانی ماں کے مندر جانا چاہتے تھے
سابق بھارتی وزیر خارجہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما جسونت سنگھ فروری کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک قدیم مندر کی زیارت کے لیے ستر یاتریوں پر مشتمل وفد کے ہمراہ پاکستان آئیں گے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام نے جسونت سنگھ کے دورے کی تصدیق کی ہے تاہم کہا ہے کہ ابھی ان کی پاکستان آمد کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق امکان ہے کہ جسونت سنگھ اگلے ماہ کے اوائل میں شروع ہونے والی پاک-بھارت کھوکھراپار- موناباؤ ٹرین کے ذریعے پاکستان آئیں گے۔

اطلاعات کے مطابق سابق بھارتی وزیر حارجہ کا خاندان برصغیر کی تقسیم سے پہلے بلوچستان کے اس قدیم مندر کی زیارت کے لیے آتا تھا مگر تقسیم کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا۔

بدری ناتھ ہنگلاج دیوی مندر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دریا ہوگول کے کنارے ایک غار میں بنا ہوا ہے جسے پاکستان میں نانی ماں کا مندر بھی کہا جاتا ہے۔ اس مندر کی سالانہ تقریبات کے لیے ہر سال بھارت سے سینکڑوں یاتری پاکستان آتے تھے۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار ’دی ایشین ایج‘ کے مطابق جسونت سنگھ کے بلوچستان دورے کی منظوری صدر جنرل پرویز مشرف نے دی ہے۔

جسونت سنگھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ساتھ کھوکھرا پار کے راستے چھور آئیں جہاں سے میر پور خاص کے راستے وہ حیدرآباد پہنچیں گے اور پھر کراچ جائیں گے جہاں سے بلوچستان میں واقع نانی ماں کے مندر کی یاترا کے لیے جائیں گے۔

دی ایشین ایج کے مطابق یہ ایک جتھہ ہندو اور مسلمان لوک فنکاروں، گائیکوں اور ڈانسروں پر مشتمل ہو گا۔ جسونت سنگھ کے بلوچستان جانے کی خبر سے راجھستان میں بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے اور بہت سے لوگ اس میں شریک ہونے کے لیے جسونت سنگھ کو درخواستیں بھیچ رہے ہیں۔

جسونت سنگھ واپسی پر لعل شہباز قلندر کے مزار پر بھی حاضری دیں گے اور چادر چڑھائیں گے۔

ہنگول دریائے کے کنارے واقع غار میں رانی ماں کے مندر پر انیس سو سنتالیس سے پہلے ہر سال بڑی تعداد میں ہندو یاتری آتے تھے۔ انیس سو سنتالیس کے بعد بھی مقامی لوگ اس مندر پر ہر سال ایک بڑے میلے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جس میں ہندو بھی شریک ہوتے ہیں۔

جسونت سنگھ بہت عرصے سے زمینی راستے سے اس مندر کی یاترا کے لیے آنا چاہتے تھے۔ تاہم گزشتہ سال جولائی میں دونوں ملکوں نے انیس سو چوہتر کے اس معاہدے پر عملدرآمد پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت مذہبی مقامات کے لیے دونوں ملکوں کے لوگوں ویزے کی سہولت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد