BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 January, 2006, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھوکھرا پار، منا باؤ ریل سروس
کھوکھرا پار، منا بھاؤ ریل سروس
بھارت اور پاکستان کے ریلوے حکام کے درمیان کھوکھراپار سے مناباؤ تک ریل سروس بحال کرنے کے لئے تین روزہ بات چیت کا دور شروع ہو چکا ہے۔

اپریل دوہزار پانچ ميں بھارت اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں اس ریل سروس کو پہلی جنوری دو ہزار چھ سے شروع کرنے کی بات کی گئی تھی ۔اس ریلوے لائن پر آخری مرتبہ 1965 میں ریل چلی تھی۔

اگر یہ ریل سروس شروع ہوجاتی ہے تو ’سمجھوتا ایکسپریس‘ کے بعد یہ دورسری ریل سروس بنے گی جو ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں کو جوڑے گی۔

آپ کی رائے میں کیا اس راستے پر ریل لنک بحال ہو جانے سے مقامی آبادی کو فائدہ پہنچے گا؟ کیا علاقائی سطح پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مزاکرات پر مثبت اثر پڑے گا؟ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری میں دونوں ممالک کی آبادی کے درمیان روابط کی بحالی کس حد تک اہم ہے؟

آپ کی رائے

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200

عمر فاروق، بحرین:
ظاہر یہ ایک اچھی خبر ہے پر بی بی سی نے نہ جانے کیوں اسے اتنی اہمیت دی ہے۔ آج کل تو لوگ ایسی خبروں پر بالکل توجہ نہیں دیتے۔

جہانگیر مغل، باغ، کشمیر:
جب تک کشمیر کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ایسے روابط کی کوئی اہمیت نہیں۔

شیخ محمد یہیی، کراچی، پاکستان:
کھوکھراپار منابھاؤ سرحد کھلنے سے دونوں ممالک کے لوگوں کو فائدہ ہوگا لیکن اس کے ساتھ ضروری ہے کہ دونوں ممالک کراچی اور ممبئی میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولیں، ورنہ اس ٹرین سروس کا کوئی فائدہ نہیں۔

عرفان حسین، سپین:
یہ بہت اچھی پیش رفت ہوگی۔

انجم ملک، جرمنی:
کوئی فائدہ نہیں۔ یہ سب ڈرامہ ہے۔ اگر کچھ کرنا ہے تو آرمی کا بجٹ کم کرنا چاہیے اور پاکستان اور بھارت کو کم از کم بیس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنا چاہیے تاکہ بجٹ کی رقم عوام کی بہتری پر لگائی جائے۔ مگر کون کرے گا ایسا؟

ابرار علی، برطانیہ:
یہ صرف ایک ڈرامہ ہے، اصل حقیقت (یعنی مسئلہ کشمیر) سے توجہ ہٹانے کے لیے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
مبارک ہو! جس راستے انڈیا اپنے جاسوس بھیجتا رہا ہے آج وہ راستے کھولنے کی پھر بات ہو رہی ہے۔

شکیل، لاہور، پاکستان:
اچھی بات ہے، لیکن کیا اس سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر ایسا مسئلہ ہے جو جب تک حل نہیں ہوتا، ان سب سی بی ایمز کا کوئی فائدہ نہیں۔ ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مثبت پیش رفت کی جائے۔

جبران حسنین، کراچی، پاکستان:
یہ اچھا فیصلہ ہے پر دیر پا نہیں۔ انڈیا یا پاکستان کے درمیان کشیدگی ہوگی تو یہ سروس پھر بند ہو جائے گی۔ مستقل حل صرف کشمیر کا فیصلہ ہے۔

سید ابو ریحان، کینیڈا:
جو کام اچھا ہو رہا ہو اس کی تو حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ ایم کیو ایم آ جائے گی اور سندھی ختم ہو جائیں گے۔ بدقسمتی سے یہ سب جہالت ہے جو ہمارے اندر بس گئی ہے۔

نوید نقوی، کراچی، پاکستان:
یہ سب باتیں بہت بعد کی ہیں۔ سب سے پہلے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔ اس کے بعد بسوں یا ریل سروسوں پر غور کیا جانا چاہیے۔

سید عابد، لورپول، برطانیہ:
یقیناً مقامی آبادی کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ وہ لوگ جن کے رشتہ دار انڈیا میں مقیم ہیں زیادہ تر کا تعلق سندھ سے ہے اور یہ راستہ ان لوگوں کے لیے بہت چھوٹا ہو جائے گا۔ اس راستے کے کھلنے سے دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا اور اس طرح آپس میں محبتیں بڑھیں گی۔

راجہ عمران، سپین:
یہ ایک اچھی بات ہے پاکستان اور انڈیا دوستی کی طرف ہاتھ ملا رہے ہیں۔ بہت سے کام ہو رہے ہیں۔ پر مرکزی مسئلہ کشمیر کا ہے جو سب سے پہلے حل ہونا چاہیے کیونکہ جو ظلم وہاں ہو رہا ہے اس سے سب آگاہ ہیں۔

محمد اجمل بنگش، اسلام آباد، پاکستان:
اس بات سے بالکل قطع نظر کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کیسے ہیں، کیسے تھے یا کیسے رہیں گے، ایسے اقدامات ضرور اٹھانے چاہئیں جن سے دونوں طرف غریب عوام کو فائدہ ہو۔ شاید کسی غریب کو کچھ سکون ملے۔

عاصف ججہ، کینیڈا:
میرے خیال میں اگر دونوں ملک یہ فیصلہ کر لیں تو دونوں کی معیشت کے لیے یہ بہت اچھا قدم ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ وہ دن بھی آئے گا جب دونوں طرف کے لوگ بس اپنا پاسپورٹ سرحد پر دکھا کر ایک سے دوسری طرف جا سکیں گے اور یہ تبھی ہوگا جب دونوں طرف کی حکومتیں امن کے لیے کوششیں جاری رکھیں گی۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انتہائی اہم اور قابل تحسین قدم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے لاکھوں کی تعداد میں رشتہ دار سرحد پار موجود ہیں اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے بہت ضروری ہیں اور اس سے حکومتی سطح پر بھی خوشگوار اثر پڑےگا۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
جب یہی اُلٹی سیدھی حرکتیں کرنی تھیں تو پاکستانی آرمی پر ملکی بجٹ کا اسی فیصد حصہ ضائع کرنے کا کیا تُک بنتا ہے؟

افتخار احمد کشمیری، لندن، برطانیہ:
اب چلتی ہے تو چلنے دو۔۔۔اب بڑھتی ہے تو بڑھنے دو۔۔۔یہ دوستی!

طارق عزیز، جھنگ، پاکستان:
اس ریل لنک اور دیگر سی بی ایمز سے حکومتی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کشیدگی لوگوں کے درمیان نہیں بلکہ ہمیشہ حکومتوں کے اور حکمرانوں کے درمیان رہی ہے۔ اب امریکہ کی وجہ سے دونوں ممالک کے حکمران کچھ قریب آئے ہیں پر کشیدگی کسی حد تک اب بھی باقی ہے جیسا کہ بلوچستان پر انڈین بیان اور پھر پاکستانی رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔

طاہر احمد، بلجیم:
پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کر لو پھر دوسرے کاموں میں پڑنا۔

منیر ارشد، لاہور، پاکستان:
پاکستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ نہ جانے انڈیا کا منصوبہ کیا ہے۔۔۔

قادر قریشی، کینیڈا:
جب یہ ریل سروس شروع ہو جائے گی تو پاکستان کو آلو پیاز ملنے لگے گا، چند جنرل کروڑپتی بن جائیں گے، انڈیا کی تجارت ایران، ترکی کے ذریعے یورپ تک پہنچ جائے گی اور دوہزار دس چین اور انڈیا کی دہائی ہوگی۔ پاکستان صرف کرایہ وصول کرے گا۔

علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان:
کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر انڈیا کے ساتھ کیا گیا کوئی بھی معاہدہ یا رابطہ سراسر پاکستان کے گھاٹے اور انڈیا کے فائدے میں جائے گا۔۔۔اس لیے انڈیا کے ساتھ کشمیر کا تنازعہ حل کیا جائے۔۔۔

مشکور خان، پاکستان:
میرے والد نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مگر وقت نے ان کو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ مرحوم یہ کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے کہ اس طرح کے پاکستان کا خواب تو تحریک پاکستان کے کسی کارکن نے سوچا تک نہ تھا۔ میرے والد تو امن کی فاختہ کے درشن نہ کر سکے مگر امید ہے کہ ان کی ذات کو نے صحیح ان کی روح کو ہی ایک دن سکون نصیب ہوگا۔۔۔

وسیع اللہ بھمبھرو، سندھ، پاکستان:
یہ منابھاؤ اور کھوکھراپار ریل وے سروس کی آڑ میں آج کے حکمران عوام کی آنکھ میں دھول جھونک رہے ہیں۔ میرا ایک بھائی خود وہاں کام پر جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ صرف پاکستانی سرحد پر موجود فوجیوں کے لیے کی جا رہا ہے اور میرے بھائی اس بات کی گارنٹی لیتے ہیں کہ کوئی ریل وے سروس بحال نہیں ہوگی۔۔۔

گل منیر، لندن، برطانیہ:
یہ دراصل سندھ کے خلاف ایم کیو ایم کی سازش ہے۔ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ سندھ میں اردو بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو تاکہ سندھی اقلیت میں رہ جائیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات:
دیر آید، درست آید۔ یہ سروس بہت پہلے شروع ہو جانی چاہیے تھی۔ بہرحال ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ میری رائے میں اس سروس کے شروع ہو جانے سے نہ صرف یہ کہ مقامی آبادی کے مسائل حل ہونگے بلکہ یقیناً دونوں ممالک کے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔ مزاکرات پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ آج کل کی دنیا میں آپسی رابطے جتنے نذدیک ہونگے دوریاں اتنی کم ہونگی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

محفوظ رحمان، اسلام آباد، پاکستان:
میرے خیال میں یہ واحد اقدام ہے جس کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچتا ہے۔ اس طرح اِدھر کے لوگ اُدھر اپنے عزیزواقارب سے مل لیتے ہیں۔ 58 سال سے مزاکرات چل رہے ہیں اور چالیس سال بعد ٹرین چل رہی ہے۔

عارف جبار قریشی، سندھ، پاکستان:
اس ریل وے لنک کی بحالی سے دوستی اور اعتماد کی راہیں ہموار ہوں گی۔ علاقے میں خوش حالی کی فضا قائم ہوگی۔ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے ملنے میں آسانی ہوگی خاص طور پر سندھ کے عوام کو بہت فائدہ ہوگا۔ ویسے کھوکھراپار، منابھاؤ ریل وے ٹریک کی بحالی میں جنرل مشرف اوع ایم کیو ایم کے الطاف حسین کی کوششیں قابل فخر ہیں۔

شفیق الرحمان، لندن، برطانیہ:
جناب یہ سب کرنا ہی تھا تو لاکھوں مہاجرین کو پاکستان بنتے وقت اور لاکھوں کشمیریوں کو پاکستان بن جانے کے بعد مروانے کی کیا ضرورت تھی؟

نصراللہ بلوچ، نواب شاہ، پاکستان:
کھوکھراپار ریل وے سروس کھلنے سے راجستھان اور سندھ کے عوام کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع ملےگا اور تجارت کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ کافی عرصے سے سندھ کے باشندے یہی کہہ رہے ہیں کہ اگر پنجاب سے انڈیا کے لیے راستہ کھل سکتا ہے تو یہاں سے کیوں نہیں؟

ساجد شاہ، برطانیہ:
پاکستان اور انڈیا اب مزید دشمنی نہیں کر سکتے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے لیکن مسائل تب حل ہونگے جب مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔

کشمیر: زلزلے کے بعدآنے جانے کی آزادی
ایل او سی پر پیش رفت؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد