BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھوکھراپارموناباؤ ریل 1 فروری سے

ریل گاڑی
ہفتے میں ایک گاڑی جائے گی
ہندوستان اور پاکستان نے یکم فروری سے موناباؤ اور کھوکھرا پار کے درمیان مسافر ریل گاڑی چلانے پر اتفاق کیا ہے۔

ابتداء میں یہ ریل گاڑی ہفتے میں ایک بار چلے گی اور دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی اس ٹرین کا نام ’تھر ایکسپریس‘ ہوگا۔

دونوں ملکوں کے ریلوے افسران نے دو روز کی بات چیت کے بعد اعلان کیا ہے کہ پہلی فروری سے ریل گاڑی چلنے کی تمام تیاریاں پوری کر لی گئی ہیں اور اب اس میں مزید تاخیر نہیں ہوگی۔

بات چیت کرنے والے ہندوستانی وفد کے سربراہ اشوک گپتا کا کہنا تھا کہ ’مسافروں کو لانے لے جانے کے لیے پہلے چھ ماہ تک پاکستانی ٹرین کام کریگی اور چھ ماہ بعد یہ ذمہ داری بھارت سنبھالےگا‘۔ دونوں ملک چھ چھ ماہ کے لیے ٹرین چلائیں گے۔

پاکستان کے محکمۂ ریل کے جنرل مینجر سلیم الرحمٰن اخوند پاکستانی وفد کے سربراہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے میں صرف ایک بار ٹرین چلے گی اور ایک ہی ٹرین مسافروں کو لیکر موناباؤ جائےگی اور پھر واپسی میں اسی پر دوسری جانب کے مسافر سوار ہوکر سرحد پار کرینگے۔

سلیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ’مجوزہ ریل گاڑی میں تقریباً تمام وہ سہولیات مہیّا ہونگی جو عام ریلوں میں ہوتی ہیں۔ اس میں بڑی تعداد میں ڈبے ہونگے تاکہ زیادہ مسافر سفر کرسکیں۔ اگر ضرورت پڑی تو مستقبل میں اسکی آمد و رفت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے‘۔

اشوک گپتا کا کہنا تھا کہ ابھی کسٹمز اور امیگریشن کے طریقہ کار اور ٹکٹ کی قیمتوں پر حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے اور ’ان تمام امور پر بات چیت کے لیے اس ماہ کے آخر میں ایک وفد اسلام آباد جائیگا اور جلد ہی انہیں طے کرلیا جائیگا۔ اس معاہدے پردستخط بھی اسلام آباد میں بات چیت کے بعد ہونگے‘۔

مسٹر گپتا کا کہنا تھا کہ ابتداء میں یہ معاہدہ آئندہ تین برس کے لیے کیا گیا ہے لیکن درمیان میں بھی اس پر نظر ثانی بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مسافر ریل گاڑی کے لیے ہے لیکن مستقبل میں اگر ضرورت پڑی تو مال گاڑی پر بھی بات ہوگی۔

مونا باؤ اور کھوکھرا پار کے درمیان انیس سو پینسٹھ میں ریل رابطے کو بند کردیا گیا تھا لیکن اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت اسے چالیس برس بعد دوبارہ کھولنے کی تیاری ہورہی ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے عوام کی کافی مشکلیں آسان ہونے کی توقع ہے۔

کھوکھراپار کھوکھراپار کا میلہ
کھوکھراپار کے میلے کیلیے اجازت کا انتظار
پاک انڈیا مذاکرات
تلخ ماحول میں مثبت نتائج کے امکانات کم ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد