BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 January, 2006, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند و پاک تجارت: 76 فیصد کا اضافہ

حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بڑھے ہیں
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی سے دونوں کے مابین تجارت کو فروغ ملا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس برس دونوں کے درمیان تجارتی سطح پر چھہتّر فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور جاری سال میں سوکروڑ ڈالر سے زیاد تجارت ہونے کے امکانات ہیں۔

تاجر برادری ابتداء سے یہ کہتی رہی ہے کہ اگر بھارت ارر پاکستان کے درمیان آزادانہ تجارت شروع ہو جائے تو اقتصادی طور پر یہ دونوں کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بہت آسان ہے اور فائدہ بھی بہت زیادہ ہے۔

بھارت اور پاکستان کے تجارتی اداروں کی ایک مشترکہ سروے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال دونوں کے درمیان بزنس میں چھہتر فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری طور پر دونوں ملکوں کے درمیان تقریبا دو سو کروڑ ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ اسے بھی ریگولارائیز کر دیا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اچھا ماحول پیدا کیا ہے اسی لیے تجارت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ملکوں نے واہگہ بارڈر کے راستے سے مویشی، شکر اور اناج کے شعبے میں تجارت شروع کی ہے۔ دونوں ملک ضروریات کے مطابق اشیاء بر آمد و درآمد کرتے ہیں اور اسے وقتا فوقتا غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی قابو پانے میں مدد ملی ہے۔

گزشتہ برس ہندوستان میں پیاز کی قیمتیں اچانک آسمان چھونے لگی تھیں تب بھارت کے تاجروں نے پاکستان سے بڑی مقدار میں پیاز درآمد کیا تھا۔ پاکستانی مصالحے تو ویسے بھی بھارت کے عام دکانوں پر دستیاب ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ منا باؤ کھوکھرا پار ریل راستہ بحال ہونے سے اور اسکے ساتھ ہی پڑوسی ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کے نفاذ سے دونوں کے درمیان مزید تجارت میں اضافے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی کے لیے ہند وپاک کے درمیان تجارتی روابط کا ترقی کرنا ضروری ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اب افغانستان بھی سارک کانفرس میں شامل ہورہا اس لیے اس علاقے میں تجارت کو مزید فروغ ملےگا۔ حالانکہ بعض افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ تجارتی سطح پر ہندوستان قدرے بڑا ہے اس لیے برادری کے اصول پر پر تجارت ہونی چاہیے۔

دونوں ملکوں کے درمیان دو ہزار دو میں تعلقات خراب ہوگئے تھے اسی لیے تمام تجارتی روابط بھی منقطع ہو گئے تھے۔ لیکن امن مذاکرات کے ذریعے یہ سلسلہ پھر جاری ہوا ہے اور امکان ہے کہ اب یہ جاری رہیگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد