بھارت میں اب چینی طرز کے تجارتی زون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اپنی برآمدات کے فروغ اور اپنی صنعتوں کو بین الا اقوامی مقابلے کے معیار تک لانے کے لئے چین کی طرز کے خصوصی اقتصادی زون قائم کرے گا۔اس سلسلے میں ایک مسودہ قانون آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ خصوصی اقتصادی زونوں میں منصوبوں کے قیام کے لئے نہ صرف تیز رفتار ترجیحی طریقہ اپنایا جائے گا بلکہ ان منصوبوں کو ٹیکس میں چھوٹ بھی ملے گی۔ اگرچہ بھارتی کابینہ نے اس منصوبے کی حمائت کی ہے لیکن ان اقتصادی زونوں خصوصی ٹیکس قوانین کے اطلاق اور ایک انتظامی ڈھانچے کے قیام کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے۔ یہ اقتصادی زون ملک کے طول و عرض میں قائم کئے جائیں گے اور ان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو پندرہ برس کے لئے ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔ متعدد اقتصادی زونوں کے اپنے ائر پورٹ اور ریلوے اسٹیشن ہوں گے۔تاکہ انکی کارکردگی اور سرگرمیاں ملک کے عمومی مواصلاتی ڈھانچے کی کمزوریوں سے متاثر نہ ہوں۔ چونکہ بھارت میں قانونی ڈھانچے پر مقدمات کے بوجھ سے تنازعات کے فیصلوں سے اچھی خاصی تاخیر ہوتی ہے اس لئے حکومت ان اقتصادی زونوں میں ہونے والے جرائم یا بے قاعدگیوں سے بروقت نمٹنے اور تیز رفتار فیصلوں کے لئے ایک خصوصی ادارے کے قیام پر بھی غور کررہی ہے۔ بھارتی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خصوصی اقتصادی زون اگر چین کی اقتصادی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تو بھارت بھی اس تجربے سے استفادہ کرسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||