BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 May, 2005, 17:59 GMT 22:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیراسازی: بھارت نمبر ون ہو سکتا ہے

ممبئی میں ہیروں کی مارکیٹ
ممبئی میں ہیروں کی مارکیٹ
ہیرے کے زیورات پہننا کسے پسند نہیں ۔یہ خوشنما ہوتے ہیں تو اسے پہننے سے خوشحالی اور خود اعتمادی کا احساس ہوتا ہے۔

لیکن اس قیمتی صنعت میں اکثر خسارہ ہونے پر خودکشی اور دھوکہ دینے پر قتل اور اغواء کی وارداتیں بھی ہوتی ہیں ۔

ہیرے کا کاروبار کرنے کے لیے کروڑوں روپے کے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔بھارت میں ریاست گجرات کے شہر سورت میں ہیرے کو پالش کرنے اور اسے کاٹنے کا کاروبار ہوتا ہے۔

عالمی بازار کا بانوے فیصد ہیرا یہیں پالش ہوتا ہے۔ستر ہزار کروڑ روپے کی اس صنعت کے لیے ہیرے بیلجیئم سے آتے ہیں اور پندرہ سے بیس لاکھ لوگ ہیروں کی کٹنگ اور پالش کا کام کرتے ہیں۔

پہلے ہیروں کی گھسائی ہاتھ سے ہوتی تھی اور مزدور کو پچاس روپے ملتے تھے لیکن اب لیزر مشینوں سے کام ہوتا ہےاور اسی مزدور کو اب بمشکل سترہ روپے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی کمپنیاں بند ہو چکی ہیں۔ بہت سےمزدور بیکار ہیں توکئی مزدور دلال بن گئے ہیں۔

ہیرے کی تجارت میں سب کام زبانی اور بھروسے پر ہوتا ہے۔ دلالوں کو فروخت کرنے کے لئے تاجر کو دلال صرف کچی رسید دیتا ہے۔ کئي بار دلال ہیرے لے کر فرار ہوجاتا ہے۔ایسے میں تاجر لاکھوں کی رقم ڈوبنے پر خاندان سمیت یا تو خودکشی پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یا پھر دلال کا اغواء کرکے اسے مار ڈالا جاتا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ میں ایسے کئی کیس فائلوں میں دبے ہوئے ہیں ۔

حال ہی میں ممبئی میں ہیروں کے ایک تاجر کا قتل ہوا تھا۔ جبکہ سورت کے بھاؤ نگر میں ہمنت گنیش جیٹھانی کو 40 لاکھ روپیوں کے لیے قتل کر دیا گیا۔

سورت میں ڈائمنڈ ایسو سی ایشن کے صدر نانو بھائی وانانی اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری صنعت کے مقابلے میں یہاں خود کشی یا قتل کی وارداتیں اتنی زیادہ نہیں ہیں۔

ان کے مطابق 10 لاکھ مزدور اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے 50 مزدوروں کی خودکشی کے بارے میں سروے کیا تو انہیں پتہ چلا کہ اس کے پیچھے ان کی بیماری یا کوئی اور سماجی وجہ تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر صنعت کی طرح اس صنعت میں بھی بدمعاش لوگ ہیں اور وہ دھوکہ و فریب کرتے ہیں۔ چونکہ لوگوں کو کروڑوں کا نقصان ہوجاتا ہے اس لیے کچھ فیصد خودکشی کے کیس بھی ہوتے ہیں۔

نانو بھائی کے مطابق ہیرے کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے سورت میں 10 لاکھ اسکوائر میٹر جگہ میں جیم اینڈ جیولری پارک تیار کیا جارہا ہے۔ اب تک بھارت میں ہیروں کی پالش اور کٹائی کا کام ہوتا تھا۔لیکن اب بھارت میں ہی ان کے زیورات تیار کرکے دیگر ممالک کو برآمد کیا جا سکےگا ۔

5 ہزار کروڑ کے اس پروجیکٹ کو تیار ہونےمیں ڈیڑھ سال کا وقت لگے گا۔ اس میں 32 کروڑ روپے کی مالیت کا تربیتی سینٹر ہوگا۔ اس کے لیے مرکزی حکومت سے 50 کروڑ کی مدد مل رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جب یہ پروجیکٹ مکمل ہو جائےگا تو بھارت ہیرے کی تجارت میں اول نمبر کی پوزیشن پر ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد