| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیرا مفت گر چھوڑے چست
بینکاک یونیورسٹی نے طالبات کو پورا اور کم چست لباس پہننے کی ترغیب دینے کے لئے انعام میں ہیرے دینے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ نوجوان طالبات کی ایک بڑی تعداد سادگی پر فیشن کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ لڑکیاں چست بلاؤز اور ایسے سکرٹ پہن رہی ہیں جو ایک جانب سے کھلے ہوتے ہیں اور جن سے بدن جھلکتا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ان ادھورے ملبوسات کی وجہ سے طالبعلموں کا دھیان بٹ جاتا ہے اور اس سے ان خواتین کی اپنی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یونیورسٹی نے طالبات کو کم ’اکسانے‘ والے اور ڈھیلے ڈالے لباس پہننے پر سونے کے ہاروں اور ہیروں کے بندوں پر مشتمل تین سیٹ انعام میں دینے کی پیش کش کی ہے۔ بینکاک یونیورسٹی کی ڈپٹی ریکٹر کا کہنا ہے کہ ہر مہینے ’خوش لباس‘ طالبات کا انتخاب کیا جائے گا جس کے بعد قرعہ اندازی کے ذریعے ان میں سے جیتنے والیوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات جو لباس پہنتی ہیں ان میں سے کئی ’نامناسب ہیں اگرچہ یونیورسٹی کو احساس ہے کہ جوان خواتین کو وقت کے ساتھ چلنا ہے لیکن اس سے ان کے اپنے لئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم تھائی اخبار بینکاک پوسٹ کی طرف سے کی گئی ایک رائے شماری کے مطابق طالبات کو اس مقابلے کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ فیشن ایبل چست ملبوسات پہننے کو ترجیح دیں گی۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ایک سینئر طالبہ سنیسہ نے اخبار کو بتایا کہ نوجوانوں کو قیمتی پتھروں میں کوئی دلچسپی نہیں اور یہ کہ ’سیکسی‘ لباس پہننے سے طلبہ کی پڑھائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور یونیورسٹی کو اپنی توجہ تعلیمی معیار بہتر بنانے پر دینی چاہئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |