| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بے نام ہیرے کو خریدار کی تلاش
دنیا کے اس سب سے بڑے ہیرے کو جس کی فروخت کے لئے جمعرات کو بولی لگی تھی، اپنا کوئی خریدار نہیں مل سکا۔ سوٹزرلینڈ کے شہر جینوا میں ماہرین نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ اس ہیرے کو، جس کا ابھی تک کوئی نام بھی نہیں رکھا گیا، جواہرات کی دنیا کا واحد ایسا پتھر ہوگا جس کی قیمت سب سے زیادہ ہوگی۔ تاہم ایک سو تین قیراط کے اس ہیرے کی کسی نے وہ قیمت بھی نہیں لگائی جو اس کی فروخت کی لئے مقرر کی گئی تھی۔ بیچنے والوں کا خیال تھا کہ یہ ساڑھے اسی لاکھ ڈالر میں بکے گا۔ انیس سو پچانوے میں اس ہیرے کی نسبت ایک چھوڑے ہیرے کی نیلامی ہوئی تھی جو ایک کروڑ چھ لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔ جمعرات کی شام جینوا کے نیلام گھر میں نیلامی کے لئے رکھے جانےوالے اس ہیرے کی تراش خراش اور اس کے حسن کو چار چاند لگانے کی لئے جنوبی افریقہ اور امریکہ کے ماہرین نے اٹھارہ مہینے صرف کیے۔
اس ہیرے کی نیلامی دیکھنے کے لئے ایک بڑا ہجوم جینوا کے نیلام گھر میں اکٹھا ہوا تھا۔ بی بی سی کی نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ اس ہیرے کا کوئی نام اس لئے نہیں رکھا گیا تھا کہ جو زیادہ سے زیادہ بولی لگا کر ہیرے کا مالک بنے گا وہی اس کا نام رکھے گا۔ لیکن لگتا ہے کہ ہی ہیرا ابھی بے نام ہی رہے گا۔ بدھ کے روز جینوا ہی میں تاریخ کا سب سے بڑا نیلم نیلامی میں فروخت ہوا تھا جس کی قیمت پچیس ملین ڈالر لگی تھی۔ جینوا کے نیلام گھر میں دس سال میں کسی جوہر کی اتنی قیمت نہیں لگی ہے۔ وہاں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ نیلم سات سے دس ملین ڈالر میں بکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||