کھوکھراپار ریل، سال کے آخر تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ ریلوے میاں شمیم حیدر نے امید ظاہر کی ہے کہ کھوکھرا پار سے مونا باؤ تک ریل سروس رواں سال کے آخر تک شروع ہوجائے گی۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے کھوکھرا پار سے سرحد تک بڑے گیج والی پٹڑی بچھانے کی منظوری دے دی ہے۔ ان کے مطابق ایک سو بتیس کلومیٹر تک نئی پٹڑی بچھانے کا کام جلد شروع ہوگا اور اسے دس مہینوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے پر ایک ارب اسی کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ چین سے چھپن ریلوے انجن ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر فی انجن کے حساب سے خریدنے کا سودا کیا گیا تھا، اب تک اٹھارہ ریلوے انجن پاکستان کو مل چکے ہیں جن میں سے نو انجن ناکارہ ہوچکے ہیں۔ جس سے پاکستان ریلوے کو روزانہ نو لاکھ روپے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر نے کہا کہ اس صورتحال کے بعد چین سے کہا گیا ہے کہ بقایا اڑتیس انجنوں کی فراہمی روک دی جائے۔ وزیر کے مطابق پاکستان اب باقی انجن چین سے نہیں خریدے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے کی پریس کانفرنس کا مقصد اس بات کا اعلان کرنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم آٹھ مارچ کو کراچی میں ’سرکلر ریلوے سروس‘ کا افتتاح کرنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں کراچی سٹی سٹیشن سے لانڈھی تک روزانہ آٹھ ریل گاڑیاں چلیں گی۔ ان ریل گاڑیوں کا کرایہ بسوں وغیرہ سے وزیر کے مطابق کم ہوگا اور اس سروس سے ایک لاکھ لوگوں کو روزانہ سفر کی آسان سہولت دستیاب ہوگی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ کراچی کے دیگر علاقوں تک سروس وسیع کرنے کے لیے ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کے ’میونسپل بانڈ‘ جاری کیے جائیں گے۔ ریلوے وزیر نے بتایا کہ ملک بھر میں ریلوے کی کل اراضی کے بیس فیصد حصے پر غیرقانونی تجاوزات قائم ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے کے لیے حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل خصوصی فورس تشکیل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور اور پشاور سمییت آٹھ بڑے شہروں میں ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص بلوچستان میں ریلوے کی پٹڑی کو بموں سے اڑانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی حفاظت کرنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن ان کے مطابق وہ مزید ریلوے پولیس کی بھرتیاں بھی شروع کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||