ہنگلاج کے لچھن، کمو اور جانو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہنگلاج کا نام میرے لیے تاریخ، ادب اور عقیدے کی صدائے باز گشت تھی مگر جب میں ہنگلاج کے سفر پر نکلی تو یہ خطہ میرے لیے جغرافیے کی پکار بن گیا۔ کراچی سے وندر، اوتھل اور اگور تک کے دو سو پینتالیس کلو میٹر طویل سفر کے دوران صحرا بھی بدلتے منظروں کے ساتھ میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ ہنگلاج کے پہاڑی سلسلے تک پہنچتے پہنچتے ہم نے فطرت کے چار بڑے مظاہر کو یکجا ہوتے دیکھا، یہاں صحرا، پہاڑ دریا اور سمندر ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ فطرت کی اتنی رنگا رنگی کہیں اور کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہنگلاج مسلمانوں کے لیے نانی پیر کا آستانہ اور ہندوؤں کے لیے ہنگلاج ماتا اور کالی دیوی استھان ہے۔ ہندوؤں کے مقدس ویدوں میں ہنگلاج کا ذکر موجود ہے۔ لسبیلہ کے ہندوؤں کی سبھا کے عہدیدار لیلا رام بتاتے ہیں کہ ہندو گنگا جل میں اشنان کریں یا مدراس کے مندروں میں جاپ کریں وہ ایودھیا جائیں یا شمالی ہند کے مندروں میں جاکر پوجا کریں، انہوں نے ہنگلاج کا یاترا نہیں کی تو ان کی ہریاترا ادھوری ہے۔ مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ، یہودیوں کے لیے ہیکل سلیمانی، عیسائیوں کے لیے ویٹیکن سٹی اور پارسیوں کے لیے آتشکدہ فارس کا جو مذہبی مقام ہے ہندوؤں کے لیے وہی حیثیت ہنگلاج کی ہے۔ ہنگلاج میں ہر سال مارچ میں ہزاروں ہندو آتے ہیں اور تین روزہ جاپ کرتے ہیں۔ ان استھانوں کا درشن کرنے والی عورتیں حاجیانی کہلاتی ہیں اور ان کا ہراس جگہ احترام کیا جاتا ہے جہاں ہندو مذہب موجود ہے۔
دس روز قبل یہاں پر صرف دو لڑکے کے کپھمن اور جانو رہا کرتے تھے۔ لچھن داس اور جان محمد انصاری لغاری کو لسبیلہ کی ہندو سبھا دو دو ہزار روپے ماہانہ دیتی ہے۔ لچھن کا تعلق تھر پارکر سے ہے جبکہ جانو ہنگلاج سے آدھے گھنٹے پیدل کے فاصلے پر دریائے ہنگول کے کنارے پر بنی ایک بستی میں رہتا ہے۔ کمو ابھی دس روز قبل ہی اس استھان کا مکین بنا ہے۔ کمو سندھ کے شہر عمر کوٹ کا رہنے والا ہے۔ اس کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ بھائی نے کسی بات پر اس کی پٹائی کی تو وہ گھر چھوڑ کر کراچی میں ایک ہندو سیٹھ کا ملازم ہو گیا یہاں پر اس کی عمر بیس سال ہوگئی۔ دس روز قبل اس نے سیٹھ سے پیسے مانگے تو اسے صرف پندرہ روپے ملے اور وہ کراچی سے ہنگلاج تک تین سو میل کا سفر پیدل چلتے اور مختلف لوگوں سے لفٹ لے کر طے کیا۔ کمو نے کہا کہ میری زندگی سپھل ہوگئی ہے۔ ’میں بہت شانتی سے ہوں۔ میں ماتا کے قدموں میں آگیا ہوں۔ اب میں زندگی یہاں پر ہی گزاروں گا۔‘ ہندو سبھانے یاتریوں کے کھانے کے لیے جو دان یہاں پر رکھ کر چھوڑا ہے اس میں سے لچھن، جانوں اور کمو بھی اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ میں اس پختہ مقام سے آگے پہاڑی نالے کے اندر بڑے بڑے پتھروں سے گزر کر ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر کالی دیوی کے استھان پر پہنچی ہوں، استھان اور مندر میں فرق اصل اور نقل کا ہے۔ استھان وہ مقام ہے جہاں کالی دیوی نے قیام کیا اور کالی کے مندر دیوی کے نام سے موسوم عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔ کالی کا استھان یہی مقام ہے اور ہندو عقیدے میں یہ مقدس ترین مقام ہے۔ ہندو ویدوں میں کہا گیا ہے کہ جب راکشسوں نے زمین پر انسانوں کا جینا دوبھر کر دیا اور انسانوں کا خون بہانا شروع کر دیا تو کالی دیوی نے راکشسوں کو فنا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ کالی دیوی راکشسوں کو قتل کر کے کھا جاتی تھی اور ان کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پی جاتی تھی۔ ویدوں میں کہا گیا ہے کہ اگر ان راکشسوں کا خون زمین پر گرتا تو ایک ایک قطرے سے ایک ایک نیا راکشس پیدا ہو جاتا۔ ہندو عقیدے کے مطابق کالی دیوی نے راکشسوں کو مکمل طور پر ختم کر کے انسانوں کو ان بلاؤں سے نجات دلائی۔ کالی کا استھان وہ مقام ہے جہاں کالی دیوی قیام کرتی تھی، کوہ ہنگلاج میں پہاڑی نالے کے کٹاؤ سے ایک وسیع جگہ بن گئی یہی جگہ کالی کا استھان بنی۔ یہاں پر کالی کی تصویر بنی ہے جس کے قدموں میں راکشس مردہ پڑا ہے۔ کالی کے دس ہاتھ ہیں۔ ان ہاتھوں میں تلوار، دیگر ہتھیار اور راکشسوں کی کٹی گردنیں ہیں۔ یہاں سے مزید سو گز کے فاصلے پر ہنگلاج ماتا کا استھان ہے، اس مقام پر بابا گورنانک اور شاہ عبدالطیف بھٹائی حاضری دے چکے ہیں۔ لچھن داس بتاتا ہے کہ ہنگلاج ماتا نے یہاں پر بابا گورونانک اور شاہ لطیف کا دیا ہوا دودھ پیا تھا۔ کمو سے ہماری ملاقات ہنگلاج ماتا کے استھان پر ہوئی۔ ہنگلاج ماتا کے استھان تک پہنچنے کے لیے پختہ سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ یہاں ہنگلاج شیوا منڈلی کا بکس رکھا گیا ہے جہاں لوگ رقم ڈالتے ہیں، یہاں وہ رنگ بھی ہے، جس سے ہندو پجاری ماتھے پر تلک لگاتے ہیں۔ کمو نے بھی ماتھے پر تلک لگا رکھا ہے میں کمو سے بھجن سنانے کی فرمائش کرتی ہوں وہ دو تین بھجن سناتا ہے۔ میں ہنگلاج ماتا کے ڈوپٹے کے نیچے رکھے ہوئے تبرکات کو دیکھتی ہوں جسے صرف خواتین ہی دیکھ سکتی ہیں۔ اور پھر دوپٹہ سے ان چیزوں کو ڈھانپ دیتی ہوں۔ شام کے ڈھلتے سایوں کے ساتھ میں واپسی کا آغاز کرتی ہوں۔ ابھی میں بیس قدم بھی نہیں چلی تھی کہ پیچھے کمو کی آواز گونجی: جے جگدیش ہرے، سوامی جے جگدیش ہرے میں ہنگلاج کے پختہ مسافر خانوں اور پازیوں کی قیام گاہوں کی جانب بڑھ رہی ہوں۔ پیچھے کمو کی آواز آرہی ہے: تم ہی ماتا، تم ہی پتا، تم ہی تم ہو ماں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||