BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 January, 2006, 13:12 GMT 18:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتماد سازی کی نئی تجاویز

نوتیج سرنا
’بھارت نے ایل او سی پر مزید فوجی چوکیاں نہ بنانےکی تجویز دی ہے‘
بھارت اور پاکستان نے تیسرے دور کے کمپوزٹ ڈائیلاگ میں تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے اعتماد سازی کی چند نئی تجاویز پیش کی ہیں۔

بھارت نے موناباؤ کھوکھرا پار ریل سروس کو اجمیر تک لانے کی پیش کش کی ہے جبکہ پاکستان نے جوہری معاملات میں اعتماد سازی کی بعض نئی تجاویز سامنے رکھی ہیں۔

پہلے دن کی بات چیت کے اختتام پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے کہا کہ ’فریقین نے ماضی کی بات چیت کا جائزہ لیا ہے اور اب تک ہوئی پیش رفت سے وہ مطمئن ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی کے بہت سے اقدامات ہوئے ہیں اور عوامی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان رابطے میں اضافہ ہوا ہے۔

مسٹر سرنا نے کہا کہ’ بھارت نے پاکستان کو مونا باؤ کھوکھرا پار ریل سروس اجمیر تک بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ پاکستانی زائرین کے لیے آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ پاکستانی حکام نے اسے سرہا ہے اور اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وہ جواب دیں گے‘۔

مسٹر سرنا نے کہا کہ نیوکلیائی میدان میں اعتماد سازی کی غرض سے بعض نئی تجویزیں پاکستان کی طرف سے بھی آئی ہیں لیکن پوری طرح جائزہ لینے کے بعد ہی ان کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ’بھارت نے لائن آف کنٹرول پر مزید فوجی چوکیاں نہ بنانے اور وہاں پر دونوں جانب کے بریگیڈ کمانڈر کے درمیان میٹنگ کی تجویز بھی پیش کی ہے‘۔

مسٹر سرنا نے کہا کہ ’جوہری امور پر اعتماد سازی کے لیے پاکستان کو ایک ڈرافٹ سونپا گیا تھا جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں ماہرین کی ملاقات سے قبل وہ اس کا تفصیلی جواب دیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان زلزلے کے دوران ہاٹ لائنز کا اچھا استعمال ہوا ہے اور انہیں مزید بہتر کرنے کی بھی تجویز ہے۔ مسٹر سرنا کا کہنا تھا کہ تمام تجاویز بالکل ابتدائی مراحل میں ہیں اور اس پر فریقین بات چیت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت کے پہلے روز فریقین نے اعتماد سازی کے اقدامات پر ہی توجہ مرکوز کی اور جموں کشمیر مسئلے پر بات چیت بدھ کو ہوگی۔

تقریبا ڈھائی گھنٹے کی گفت وشنید کے دوران ایک دوسرے کے ملک میں قونصلیٹ کھولنے، تجارت اور اقتصادی معاملات میں تعاون، بس سروسز، کشمیر میں ایل او سی پوائنٹ کھولنے اور آئندہ کی بات کے شیڈول اور تاریخوں جیسے تمام امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

پاک انڈیا مذاکرات
تلخ ماحول میں مثبت نتائج کے امکانات کم ہیں
ریل گاڑیکھوکھراپار موناباؤ
تین روزہ بات چیت جمعرات سے شروع
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد