مذاکرات کا تیسرا دور شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کا تیسرا مرحلہ نئی دلی میں شروع ہو گیا ہے۔ یہ بات چیت خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہو رہی ہے اور اس میں کشمیر سمیت اعتماد سازی کے کئی دیگر امور پر بات ہو نے کی توقع ہے۔ یہ دو روزہ بات چیت تین مرحلوں میں ہوگی۔ اس بات چیت کے لیے آنے والے پاکستانی وفد کی قیادت پاکستان کےخارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہندوستانی ہم منصب شیام سرن بھارتی وفد کے قائد ہیں۔ پاکستانی وفد منگل کو ہی مملکتی وزیر خارجہ ای احمد سے بھی ملاقات کرے گا۔ حیدرآباد ہاؤس میں مذاکرات سے قبل دونوں ملکوں کے وفود تصویر کشی کے لیے میڈیا کے سامنے آئے تاہم اس موقع پر وفود میں شامل افسران نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ ان دو روزہ مذاکرات میں سیاچن، سرکریک، تلبل نیویگیشن پراجیکٹ، دہشت گردی ، منشیات کی اسمگلنگ اور اقتصادی اور تجارتی تعاون پر بات چیت ہو گی۔ فریقین باہمی روابط کو فروغ دینے کے لیےمزید چھ موضوعات پر مفصل بات چیت کے لیے تاریخوں اور طریقہ کار کا بھی تعین کريں گے۔ مذاکرات کے دوران ممبئی اور کراچی میں قونصل خانے کھولے جانے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئےگا اور موناباؤ کھوکھراپار ریل سروس کے عملی پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال اور اس کے حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔ بات چیت میں جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے متعلق اعتماد سازی کے اقدامات اور گزشتہ ادوار میں ہوئی بات چیت کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔ |
اسی بارے میں سیاچین: حل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر 04 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||