ہند- پاک مذاکرات کا تیسرا دور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’کمپوزٹ ڈائیلاگ‘ کا تیسرا مرحلہ منگل سے شروع ہو رہا ہے ۔ دونوں جانب کے اہلکاروں کے وفد دو روزہ مذاکرات میں سیاچن، سرکریک، تلبل نیویگیشن پراجیکٹ، دہشتگردی اور منشیات کی سمگلنگ، اقتصادی اور تجارتی تعاون اور روابط کو فروغ دینے کے چھ موضوعات پر مفصل بات چیت کے لیے تاریخوں اور طریقہ کار کا تعین کريں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ دونوں خارجہ سیکریٹری امن سلامتی اور جموں کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔ مسٹر سرنا کا کہنا تھا کہ ’جموں کشمیر پر بحث کے دوران دونوں اہلکار دیگر باتوں کے علاوہ کنٹرول لائن پر کیے گئے اقدامات میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے‘۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ وفود پنچھ اور راولا کوٹ کے درمیان بس سروس، سری نگر اور مظفرآباد کے راستے ٹرک سروس ، کنٹرول لائن پر ملاقات کے مراکز طے کرنے اور مذہبی مقامات کی زیارت کے سوالات پر ماہرین کی بات چیت کی تاریخوں کا تعین بھی کريں گے۔ مسٹر سرنا نے بتایا کہ دو روزہ مذاکرات میں دونوں خارجہ سیکریٹری گزشتہ دو ادوار کے مذاکرات کا عمومی جائزہ ليں گےاور ایسے معاملات پر بھی غور کريں گے جن پر اتفاق ہو چکا ہے اور جنہيں نافذ کیا جا نا ہے۔ مسٹر سرنا نے مزید کہا کہ اس کے تحت ممبئی اور کراچی میں قونصل خانے کھولے جانے کا معاملہ اور موناباؤ کھوکھراپار ریل سروس کے عملی پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کی توقع ہے ۔ بات چیت میں جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے متعلق اعتماد سازی کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دو روزہ مذاکرات پہلے سے طے شدہ پروگرام اور طریقہ کار کے تحت ہوں گے اور اس مرحلے پر کسی نتیجے یا توقع کی بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ |
اسی بارے میں سیاچین: حل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر 04 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||