’مسائل کےحل کا آئیڈیل وقت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات بھارت اور پاکستان کو ’ قابل عمل، حقیقی اور پائیدار، بنیادوں پر حل کرنے کے لئے جرات ، لچک اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بدھ کے روز ’انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، کی جانب سے جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے امکانات، کے موضوع پر منعقد کردہ تین روزہ سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی تنازعات کا فوجی حل نہیں ہوسکتا۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لئے مسائل دوطرفہ بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ان کے بقول ’ آئیڈیل، وقت ہے اور دونوں ممالک کو بہت پختگی دکھاتے ہوئے ’ مناسب مدت، کے اندر معاملات طئے کرنے ہوں گے۔ اس تین روزہ سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کے لئے سیمینار کی جگہ جانے کی بجائے انہوں نے تمام مندوبین کو ایوان صدر بلا کر خطاب کیا۔ جب صدر کے افتتاحی اجلاس سے خطاب نہ کرنے اور اختتامی سیشن کو بھی ایوان صدر بلوا کر خطاب کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ صدر کو حلق (گلے) میں تکلیف تھی اس لئے وہ افتتاحی اجلاس میں نہیں آسکے البتہ آخری سیشن کو ایوان صدر بلانے کی وجہ انہوں نے ان کی مصروفیت بتائی۔ فوجی حکام نے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ایسا کرنے کی تردید کی۔ یاد رہے کہ سیمینار کے دوسرے ہی دن صدر نے نیشنل ڈفینس کالج میں جا کر خطاب کیا تھا۔ صدر کا کہنا تھا کہ اعتماد کی بحالی کے اقدامات کو پیچیدہ مسائل کے حل کا متبادل نہیں سمجھنا چاہئے۔ ان کی رائے تھی کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں دیر لگے گی، کیونکہ ان کے بقول اگر سنجیدگی اور سچائی ہو تو دیر نہیں لگے گی۔ سیمینار میں شرکت کے لئے بھارت سے بھی دانشوروں اور صحافیوں کا ایک وفد شریک تھا جبکہ پاکستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ دریں اثناء بھارت کے پاکستان میں ہائی کمشنر جو نئی دہلی سے ہدایات لینے کے بعد پاکستان پہنچے ہیں انہوں نے بدھ کے روز پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری سے ملاقات کی اور نئی حکومت کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||