جوہری فضلہ، معاملہ سپریم کورٹ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان بدھ کوجوہری توانائی کے ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے پنجاب کے دور افتادہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں مبینہ طور پر ایٹمی فضلہ دفن کرنے کے معاملے کا جائزہ لے گی۔ اس معاملے کو سپریم کورٹ کا جو تین رکنی بنچ دیکھ رہا ہے اس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری خود کر رہے ہیں جبکہ باقی دو ارکان کے نام جسٹس میاں شکراللہ جان اور جسٹس ایم جاوید بٹر بتائے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی توجہ اس مسئلے کی جانب ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جلال الدین اکبر نے مبذول کرائی تھی۔ انہوں نے ایٹمی فضلے کی مبینہ ڈمپنگ اور اس سے زندگی اور ماحول کو پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے خلاف اپنی عدالت میں زیر سماعت دو مختلف درخواستوں کو قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے وفاقی کمیشن کو بھجوا دیا تھا۔ درخواست گزاروں سید محمد نصیر شاہ اور لعل محمد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ان کے آبائی علاقے بغلچور سے انیس سو ستتر سے لیکر سال دو ہزار تک یورینیم نکالتا رہا۔ بعد میں یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے ایٹمی فضلہ ٹرکوں پر لاد کر مخلتف جگہوں سے بغلچور میں لایا جا رہا ہے جبکہ مقامی آبادی کو اس حوالے سے کسی بھی مرحلے پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غیر محفوظ‘ طریقے سے ایٹمی فضلہ سرنگوں میں رکھنے سے انسانی و حیوانی زندگی اور ماحول کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اپنی درخواستوں میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ جوہری توانائی کے ادارے کو بغلچور میں ایٹمی فضلہ دفن کرنے سے منع کیا جائے۔ اس سے قبل مقامی قبائلی انتظامیہ کو دی گئی ایک درخواست میں بغلچور سے تعلق رکھنے والے کئی افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ ’تابکاری‘ کے اثرات ان کے جانوروں پر پڑنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ ان کے بال تیزی سے جھڑ رہے ہیں جبکہ سم یعنی پاؤں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ پولیٹکل اسسٹنٹ کے حکم پر ماتحت عملہ نے جو رپورٹ دی اس میں بغلچور کے مقامی لوگوں کے دعوؤں کی تصدیق کی گئی تھی۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے اس کے ڈیرہ غازی خان میں جنرل مینجر محمد بیگ نے عدالت میں جواب دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار دباؤ ڈال کر کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ان کی طرف سے اٹھایا گیا مسئلہ خالصتاً تکنیکی نوعیت کا ہے جو کہ مقامی انتظامیہ سے متعلقہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ کوئی بھی کام مفاد عامہ کے خلاف کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جو مواد بھی ڈرموں میں ڈال کر زیر زمین رکھا گیا ہے اس کے ابھی تک علاقے پر کوئی تابکاری اثرات سامنے نہیں آئے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ڈیرہ کے ضلعی جج نے خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے معاملہ قانون، انصاف اور انسانی حقوق کمیشن کو غالباً اس لیئے بھجوایا کیونکہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اپنے جواب دعویٰ میں ان کی عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ انتیس مارچ کے روز عدالت کو ڈیرہ غازی خان میں ایٹمی فضلہ دفن کرنے کے معاملے پر متعلقہ ادارے اور حکومتی مؤقف سے آگاہ کریں۔ | اسی بارے میں ’امریکہ بھارت معاہدہ ایک دھچکہ‘04 March, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان پاک امریکہ توانائی مذاکرات 13 March, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان انڈیا پاکستان بات سفارشات پر ختم22 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||