ایران مخالف تحقیق: پاکستان شریک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویانا میں پیر کو عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے اہلکاروں نے پاکستان سے سرکاری طور پر آنے والے ماہرین کے وفد سے ملاقات کی اور ایجنسی کے ترجمان مارک گوذدکے کا کہنا ہے کہ ’تصدیقی عمل جاری ہے‘ ۔ ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ ادارے کے بورڈ آف گورنر کی مجلسِ عاملہ کے آئندہ اجلاس تک وہ تابکاری کے معاملے پر رپورٹ پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بورڈ آف گورنر کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس ایران کے معاملے پر ستمبر کی انیس تاریخ کو ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں عالمی جوہری ایجنسی کی تحقیقات سے حاصل ہونے والی معلومات کے متعلق بات چیت کے لیے پاکستانی جوہری ماہرین کی ٹیم ویانا پہنچ گئی ہے۔ یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے پیر کے روز صحافیوں کی دی گئی ایک بریفنگ میں بتائی اور کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہونے والی تحقیقات سے حاصل شدہ معلومات پر عالمی جوہری ایجنسی کے ماہرین سے بات چیت جلد ہی شروع ہوگی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہرگز نہیں ہیں اور پاکستان نے صرف ایران اور متعلقہ عالمی جوہری ایجنسی کی درخواست پر ان سے تعاون کیا ہے۔
واضح رہے کہ جب عالمی جوہری ایجنسی کو ایران سے افزودہ یورینیم کے کچھ ذرات ملے تھے تو اس بارے میں ایران نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ذرات پاکستان سے حاصل کردہ سینٹری فیوجز میں موجود تھے۔ ایران کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے عالمی جوہری ایجنسی نے پاکستان سے ایران کے پاس موجود آلات جیسے ہی استعمال شدہ آلات مانگے اور اپنی تحقیقات کیں۔ ان تحقیقات کی روشنی میں حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں عالمی جوہری ایجنسی کے ماہرین پاکستان کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کریں گے۔ ایران کے پاس جو سینٹری فیوجز موجود ہیں ان کے بارے میں پاکستان حکومت نے کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ذاتی طور پر بیچے تھے اور حکومت کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ پاکستان حکومت نے ان الزامات کے بعد ڈاکٹر خان سے اعزازات واپس لے کر انہیں اپنے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے۔ کچھ اخبارات نے مغربی سفارتی ذرائع سے خبر دی ہے کہ جوہری ادارے کی تحقیقات سے ایران کا دعویٰ درست ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت میں ایران کو درپیش مشکلات میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن پاکستانی ترجمان کا کہنا ہے کہ تاحال انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ جوہری ادارے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ عالمی جوہری ایجنسی ایران کے بارے میں تحقیقات سے حاصل ہونے والی تمام معلومات پاکستان کو فراہم کرے یا عام معلومات کے طور پر جاری کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||