BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 August, 2005, 16:20 GMT 21:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران مخالف تحقیق: پاکستان شریک

iran
اصفہان میں ایران کا جوہری پلانٹ جہاں دوبارہ ایٹمی سرگرمی شروع کرنے کے بارے میں کہا جا رہا ہے
ویانا میں پیر کو عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے اہلکاروں نے پاکستان سے سرکاری طور پر آنے والے ماہرین کے وفد سے ملاقات کی اور ایجنسی کے ترجمان مارک گوذدکے کا کہنا ہے کہ ’تصدیقی عمل جاری ہے‘ ۔

ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ ادارے کے بورڈ آف گورنر کی مجلسِ عاملہ کے آئندہ اجلاس تک وہ تابکاری کے معاملے پر رپورٹ پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

بورڈ آف گورنر کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس ایران کے معاملے پر ستمبر کی انیس تاریخ کو ہو رہا ہے۔

اس سے پہلے اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں عالمی جوہری ایجنسی کی تحقیقات سے حاصل ہونے والی معلومات کے متعلق بات چیت کے لیے پاکستانی جوہری ماہرین کی ٹیم ویانا پہنچ گئی ہے۔

یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے پیر کے روز صحافیوں کی دی گئی ایک بریفنگ میں بتائی اور کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہونے والی تحقیقات سے حاصل شدہ معلومات پر عالمی جوہری ایجنسی کے ماہرین سے بات چیت جلد ہی شروع ہوگی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہرگز نہیں ہیں اور پاکستان نے صرف ایران اور متعلقہ عالمی جوہری ایجنسی کی درخواست پر ان سے تعاون کیا ہے۔

News image
ایران کا کہنا ہے کہ پا امن جوہری پروگرام اس کا حق ہے اور وہ اس سے دستبردار نہیں ہو سکتا

واضح رہے کہ جب عالمی جوہری ایجنسی کو ایران سے افزودہ یورینیم کے کچھ ذرات ملے تھے تو اس بارے میں ایران نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ذرات پاکستان سے حاصل کردہ سینٹری فیوجز میں موجود تھے۔

ایران کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے عالمی جوہری ایجنسی نے پاکستان سے ایران کے پاس موجود آلات جیسے ہی استعمال شدہ آلات مانگے اور اپنی تحقیقات کیں۔

ان تحقیقات کی روشنی میں حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں عالمی جوہری ایجنسی کے ماہرین پاکستان کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کریں گے۔

ایران کے پاس جو سینٹری فیوجز موجود ہیں ان کے بارے میں پاکستان حکومت نے کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ذاتی طور پر بیچے تھے اور حکومت کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

پاکستان حکومت نے ان الزامات کے بعد ڈاکٹر خان سے اعزازات واپس لے کر انہیں اپنے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے۔

کچھ اخبارات نے مغربی سفارتی ذرائع سے خبر دی ہے کہ جوہری ادارے کی تحقیقات سے ایران کا دعویٰ درست ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت میں ایران کو درپیش مشکلات میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

لیکن پاکستانی ترجمان کا کہنا ہے کہ تاحال انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ جوہری ادارے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ عالمی جوہری ایجنسی ایران کے بارے میں تحقیقات سے حاصل ہونے والی تمام معلومات پاکستان کو فراہم کرے یا عام معلومات کے طور پر جاری کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد