ہنگامی مذاکرات کا حتمی دور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی جانب سے جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد اقوامِ متحدہ کے جوہری پروگرام کے نگران ادارے کی ہنگامی بات چیت حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس بات چیت میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ ایران کے اس اقدام کے بعد کس قسم کا ردعمل ظاہر کیا جائے۔ ان مذاکرات کے دوران یورپی یونین کی جانب سے اصفہان کے جوہری پلانٹ کو دوبارہ کھولے جانے سے متعلق تجاویز پر بھی غور ہو گا۔ اس اجلاس میں زیرِ غور قرارداد میں نہ صرف یورینیم کی افزودگی بلکہ اس بات پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ آیا کہ ایران اب اپنی جوہری صلاحیتیوں کے بارے میں شفاف ہے یا نہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مذکورہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات ابھی حل ہونا باقی ہیں اور ادارے کو اس بات کا یقین نہیں کہ ایران میں کچھ ایسے جوہری مادے اور سامان موجود نہیں جس کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں اقوامِ متحدہ کے جوہری پروگرام کے نگران ادارے کے سربراہ محمد البرادی سے کہا ہے کہ وہ اس ادارے کے پینتیس رکنی بورڈ آف گورنرز کو مکمل رپورٹ تین ستمبر 2005 تک پیش کریں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل لے جانا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ اس اجلاس میں شریک ایران کے چیف مذاکرات کار نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ایندھن پیدا کرنے کا پورا حق ہے۔ ایران نے بدھ کے روز اپنے جوہری پلانٹ پر سے ’سِیل‘ کھول دی تھی جس کے بعد پلانٹ پوری طرح کام کرنے کے قابل ہوگیا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ ایران سے مذاکرات جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر پایا جانے والے تعطل ختم ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ جوہری پروگرام میں ایران کے سب سے بڑے معاون روس نے ایران سے کہا تھا وہ یورینیم کی افزودگی فوری طور پر بند کرے۔روس نے ایران سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ جوہری توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے سے تعاون کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||