BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 August, 2005, 04:06 GMT 09:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاملہ بات چیت سے حل کریں: عنان
اصفہان
ایران نے یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے یورپی یونین سے کہا کہ وہ ایران سے مذاکرات جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر پایا جانے والے تعطل ختم ہونا چاہیے۔

مسٹر کوفی عنان کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایران نے یورپی یونین کی تنبیہہ کے باوجود بدھ کے روز اصفہان کے جوہری پلانٹ میں اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کی لگائی تمام سیلز توڑ کر پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی کا کام شروع کر دیا ہے۔

مسٹر کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے نومنتخب صدر محمود احمدی نژاد سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

دوسری طرف یورپی یونین نے جوہری توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کو بھیجے گئے قرار کے ایک مسودے میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی فوری طور پر بند کر دے۔

قرار داد کے اس مسودے پر بحث جمعرات کے روز ہوگی۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل لے جانا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ میٹنگ میں شریک ایران کے چیف مذاکرات کار نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ایندھن پیدا کرنے کا پورا حق ہے۔

سائرس ناصری نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام کو بتایا کہ یورپی یونین سے ساتھ جوہری پروگرام کو معطل رکھنے سے متعلق ایران کی بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔

انہوں نے یورپی یونین کی طرف سے اقتصادی اور سیاسی مراعات کو ’لولی پاپ کا پیکیج‘ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا اور کہا کہ ایران کو نہ ان مذاکرات سے پہلے کوئی امید تھی اور نہ کبھی ہو گی۔

نامہ نگاروں کے مطابق اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے ہنگامی اجلاس میں سفارت کار اس مخمسے میں ہیں کہ ایران کے سلسلے میں اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے جوہری پلانٹ کو کھولنا جوہری ایجنسی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ تو پہلے ہی کہتا رہا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی طرف سے معاشی پابندیاں لگنی چاہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور مغرب کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے بہت سختی سے نمٹنے کی کوشش کی گئی تو وہ بھی شمالی کوریا کی طرح الگ تھلگ ہوجائے گا ۔ اور شاید پھر اس سے مذاکرات اور زیادہ مشکل ہو جائیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر منگل سے شروع ہونے والی بات چیت کو مکمل ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد