BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 May, 2005, 21:42 GMT 02:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی پھیلاؤ کا تاریک مستقبل
ایٹمی پھیلاؤ
ایٹمی ٹیکنالوجی کے حق میں بھی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں
مفادات اور بحث و مباحثے کی جنگ کے باعث جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا جائزہ لینے کے لیے کانفرس کی ناکامی کوئی حیران کُن بات نہیں ہے۔

جائزہ کانفرنس کی ناکامی سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور تعداد کم کرنے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

معاہدے میں دو ایسی کمزوریاں ہیں جن پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔

پہلی کمزوری یہ ہے کہ رُکن ملک معائنے کے دوران بھی قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے ایندھن کی افزدگی کر سکتے ہیں جیسا کہ ایران کی مثال ہے۔ ایران جوہری ایندھن کو افزدہ کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ اگرچہ اسکا کہنا ہے کہ اسکے مقاصد پرامن ہیں لیکن گذشتہ 20 سال کے دوران ایران کو کوششوں کے خفیہ رھنے سے بے اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔

معاہدے میں دوسری کمزوری یہ ہے کہ اس سے علیحدہ ہونے کا کوئی خاص نقصان نہیں ہے۔ شمالی کوریا نے نہ صرف جوہری اہلیت حاصل کر لی ہے بلکہ معاہدے سے بھی علیحدہ ہو چکا ہے اور یہ اعلان کر چکا ہے کہ اس نے ایک نہیں بلکہ کئی جوہری ہتھیار بنالیے ہیں۔

اس تعطل کیوجہ سے مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نپٹنے کے لیے امریکہ معاہدے سے ہٹ کر یک طرفہ اور کثیرالجہتی اقدامات کرے گا۔

امریکہ کے نائب وزیر برائے تخفیفِ اسلحہ سٹیفن ریڈمیکر نے کانفرنس کے افتتاحی بیان میں ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سٹیفن ریڈمیکر کا کہنا تھا ’ہم نے معاہدے سے ہٹ کر ایسے نئے طریقے تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو این پی ٹی کے معاہدے کو تقویت دیں گے‘۔

کچھ عرصہ قبل امریکہ نے جوہری پھیلاؤ کو محفوظ بنانے کے اقدام (پی ایس آئی) شروع کیے ہیں۔ 60 سے زیادہ ملکوں نے یہ طے کیا کہ وہ جوہری پھیلاؤ کی نگرانی کریں گے اور اگرضرورت پڑی تو جوہری مادے کی غیر قانونی تجارت کے خلاف اقدام کریں گے۔

غیر قانونی جوہری خطرہ نہ صرف شمالی کوریا اور ممکنہ طور پر ایران جیسے ممالک سے محسوس کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں اے کیو خان نیٹ ورک جیسے خفیہ گروہ بھی شامل ہیں۔ اے کیو خان پاکستانی جوہری سائنسدان ہیں اور انکے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے جوہری راز دنیا بھر میں پھیلائے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب کانفرنس کی ناکامی پر قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ کانفرنس کی ناکامی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے ۔ امریکہ نے جوہری عدم پھیلاؤ کی پچھلی جائزہ کانفرنس میں ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا، ایٹمی دھماکوں پر موثر پاپندی کا معاہدہ (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی نہیں کی اور اب ’چھوٹے جوہری ہتھیار‘ بننانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ چھوٹے ہتھیار خندقوں کو توڑنے کے کام آتے ہیں۔

امریکہ اور روس پر اپنے جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ کمی نہ لانے کا بھی الزام ہے۔

امریکہ دوسروے ممالک پر الزام لگاتا ہے کہ انھوں نے جوہری پھیلاؤ کو روکنے کیلئے زیادہ کوششیں نہیں کی ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کو روکنے کی سب سے زیادہ کامیابی معاہدے سے ہٹ کر ہوئی ہے۔ لبیا نے اپنا جوہری پروگرام ترک کیا ہے اور اے کیو خان نیٹ ورک کوختم کیا گیا ہے۔

امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ سرد جنگ کے مقابلے میں اب ہزاروں کی تعداد میں جوہری ہتھیار ختم ہو چکے ہیں اور انکی کمی پر مزید کام ہو رہا ہے۔

معاہدے کا بنیادی مقصد ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک اپنے ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کریں گے اور جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔ جبکہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک کو پر امن مقاصد کے لیے جوہری طاقت حاصل کرنے کی آزادی ہوگئی۔

کانفرنس میں جوہری ہتھیار رکھنے والے اور جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک میں ہمیشہ کی طرح اختلافات سامنے آئے ہیں۔ جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک کا کہنا تھا کہ جب تک جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک مذاکرات کے بارے میں سنـجیدہ نہیں ہوں گے، انھیں جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہونا چاہیے۔

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدے میں موجود مذکورہ بالا دو کمزوریوں پر مزید بحث ہوگی۔ لیکن کانفرنس کی ناکامی کی وجہ سے ان مذاکرات کی کامیابی کی زیادہ توقع نہیں ہے۔

اگلی جائزہ کانفرنس پانچ سال کے بعد ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد