ری ایکٹر نہیں خرید رہے:دفترخارجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفترِ خارجہ نے ایک برطانوی اخبار میں چھپنے والی اس خبر کی تردید کی ہے کہ پاکستان چین سے سات بلین امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کے آٹھ جوہری ری ایکٹروں کی خریداری کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کی وجہ سے ملک کو محفوظ جوہری توانائی کی ضرورت ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ محفوظ جوہری توانائی کے ذرائع ملیں مگر برطانوی اخبار کا یہ دعوٰی کرنا کہ پاکستان آٹھ جوہری ری ایکٹر خریدنے کے لیے چین سے بات چیت کر رہا ہے درست نہیں ہے۔ برطانوی اخبار فائنینشل ٹائمز کے مطابق یہ ایٹمی ری ایکٹر چار ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اخبار نے ایک سینئر پاکستانی افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر سنہ 2015 میں شروع ہو گی اور یہ سنہ 2025 تک کام شروع کر دیں گے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان ری ایکٹروں کی تعمیر کے نتیجے میں پاکستانی حکومت کے اس منصوبے کو تقویت پہنچے گی جس کے تحت وہ سنہ 2030 تک ملک میں جوہری بجلی کی پیداوار 425 میگا واٹ سالانہ سے 8800 میگا واٹ سالانہ تک لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان ان جوہری ری ایکٹروں کے بارے میں مذاکرات کی بات اس وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے چشمہ کے مقام پر چین کی مدد سے تعمیر ہونے والے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے۔ چشمہ2 نامی یہ نیا بجلی گھر آئندہ پانچ برس میں تیار ہو گا اور اسے چین ہی کی مدد سے تیار ہونے والے چشمہ 1 بجلی گھر کے ساتھ بنایا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے ستمبر 2005 میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے توانائی کےشعبے میں تعاون کی درخواست کی تھی۔ تاہم پاکستان کے ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک ہونے اور اس خطرے کے پیشِ نظر کے جوہری صلاحیت کہیں ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ ہو، یہ تعاون ممکن نظر نہیں آ رہا۔ تاہم وزیر اعظم شوکت عزیز نے چشمہ ٹو پر کام شروع کرنے کی تقریب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین سے دو اور جوہری ری ایکٹر درآمد کرے گا جس سے چھ سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔ | اسی بارے میں جوہری بجلی کے پلانٹ پر کام شروع28 December, 2005 | پاکستان جوہری مواد، برآمد پر ضوابط سخت 27 December, 2005 | پاکستان ’نئے ڈیم، خوشحالی کی تدبیر‘20 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||