جوہری مواد، برآمد پر ضوابط سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے منگل کے روز جوہری اور حیاتیاتی اسلحہ سے متعلق ہر قسم کے مواد کی برآمد پر سخت ضابطہ لانے کے لیے فہرستیں مرتب کرکے ’ایس آر اوز‘ یعنی ’سٹیچوٹری رگیولیٹری آرڈرز‘ جاری کردیے ہیں۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان فہرستوں میں شامل مواد اور آلات کی تفصیلات یہ کہہ کر نہیں بتائیں کہ ’یہ فہرستیں خاصی طویل ہیں۔‘ البتہ انہوں نے کہا کہ یہ فہرستیں تازہ ترین طے کردہ عالمی معیار کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’نیوکلیئر سپلائرز گروپ‘ اور ’آسٹریلیا گروپ‘ کے علاوہ یورپی یونین کی مرتب کردہ فہرستوں میں جس قسم کے مواد اور آلات کی برآمد پر پابندی ہے وہ تمام اشیاء پاکستان کی مرتب کردہ فہرستوں میں بھی شامل ہیں۔ پاکستان حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں پارلیمان سے جوہری اور حیاتیاتی مواد، آلات اور ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کیا تھا۔ لیکن متعلقہ اشیاء کی فہرستیں اب مرتب کی گئی ہیں۔ اس بارے میں جب دفتر خارجہ کی ترجمان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ اشیاء انتہائی پیچیدہ اور فنی نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان کا مکمل جائزہ لینے اور نشاندہی کرنے میں وقت لگتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان حکومت کیمیائی اسلحہ کے متعلق اس طرح کی فہرستیں پہلے ہی جاری کرچکی ہے اور عالمی معیار کے مطابق اس پر عملدرآمد ہورہا ہے۔ منگل کے روز دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان فہرستوں میں شامل اشیاء کے بارے میں متعلقہ پیداوری صنعتوں اور برآمد پر کنٹرول کرنے والے اداروں کو بھی مطلع کیا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر سن دوہزار پچیس تک آٹھ ہزار آٹھ سو میگا واٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر عالمی جوہری ادارے ’آئی اے اِی اے‘ کے اصولوں کے عین مطابق کرے گی۔ دفتر خارجہ کے مطابق حکومت کے منظم اور سخت برآمدی اقدامات کی وجہ سے انہیں دنیا بھر سے جوہری بجلی پیدا کرنے کے لیے مطلوبہ تعاون ملنے میں بھی آسانی ہوگی۔ | اسی بارے میں IAEA کی تحقیق: پاکستان بھی شریک22 August, 2005 | پاکستان ’قدیرکو سی آئی اے نے بچایا تھا‘09 August, 2005 | پاکستان مشرف نے سودے بازی کی ہے: قاضی25 March, 2005 | پاکستان جوہری مواد کی برآمد کا بل منظور14 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||