BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 December, 2005, 19:00 GMT 00:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری بجلی کے پلانٹ پر کام شروع

چشمہ پراجیکٹ
چشمہ میں پہلے یونٹ کا افتتاح سن دو ہزار ایک میں کیا گیا تھا
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے بدھ کے روز چشمہ کے مقام پر سوا تین سو میگا واٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔

چین کی مدد سے تعمیر کیے جانے والا یہ جوہری پاور پلانٹ چھ سال بعد پیداوار شروع کرے گا اور اس پر پچاس ارب روپوں تک لاگت آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جوہری بجلی پیدا کرنے پر لاگت زیادہ آتی ہے لیکن بجلی پیدا کرنے پر اخراجات کم ہوتے ہیں اور جوہری پاور پروجیکٹ تسلسل کے ساتھ پائیدار بنیاد پر پیداوار دیتے ہیں۔

اسلام آباد سے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چشمہ میں پہلے بھی تین سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک جوہری بجلی گھر تعمیر کیا گیا ہے جو کامیابی سے چل رہا ہے۔
پاکستان میں جوہری بجلی پیدا کرنے کا پہلا منصوبہ کراچی میں پینتیس برس قبل شروع کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے پاکستان کے ’انرجی سیکورٹی پلان‘ کے تحت جہاں جوہری بجلی پیدا کرنے کو اولیت دی وہاں زرعی ترقی اور ’ہائیڈل بجلی‘ پیدا کرنے کے لیے آبی ذخائر کی تعمیر پر بھی سخت زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ چار برسوں میں چھ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہوجائے گی جبکہ آئندہ دو برسوں میں تیرہ سو میگا واٹ بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔

اس موقع پر ’پاکستان اٹامک انرجی کمیشن‘ کے چیئرمین نے کہا کہ دو ہزار تیس تک آٹھ ہزار آٹھ سو میگا واٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کے لیے حکومت نے انہیں ہدف دیا ہے اور وہ اسے پورا کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ماہرین کو جوہری بجلی گھر بنانے کی مکمل اہلیت ہے اور کسی بھی مشکل کو اپنے ساتھی چینی ماہرین کی مدد سے حل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا میں چار سو تینتالیس جوہری بجلی گھر چل رہے ہیں جبکہ چوبیس منصوبے مختلف ممالک میں زیر تعمیر ہیں اور چشمہ دوئم کا منصوبہ ان میں ایک نیا اضافہ ہے۔

چشمہ دوئم منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عنصر پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا نیا منصوبہ کراچی میں سمندر کے قریب چھ سو میگا واٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔

جبکہ ان کے مطابق بعد میں وہ چشمہ کے مقام پر ایک منصوبے کے بعد دریائے سندھ کے دائیں کنارے صوبہ سرحد میں ایک منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اٹامک انرجی کمیشن کے ایک انجنیئر نے بتایا کہ جوہری بجلی کے فی یونٹ کی پیداوار پر بتیس پیسے لاگت آتی ہے جبکہ تیل، گیس اور کوئلے سے ایک یونٹ بجلی کی پیدواری لاگت ساڑھے چار روپے ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جوہری بجلی گھر بنانے پر لاگت دیگر کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد