BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی ہلاکت:اے این پی کی مذمت

حاجی غلام احمد بلور
اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور کی اخباری کانفرنس
صوبہ سرحد میں بعض قوم پرستوں اور عام لوگوں نے بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کو توڑنے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔


صوبہ سرحد میں نواب بگٹی کی ہلاکت کے خلاف کوئی جلسہ یا جلوس تو نہیں نکلا تاہم سیاسی جماعتوں نے مذمتی بیانات ضرور جاری کیئے ہیں۔

اس واقعہ پر سب سے شدید ردعمل اپنے آپ کو پختون قوم پرست کہلوانے والی عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ جماعت کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے پشاور میں ایک ہنگامی اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے ’گریٹر پنجاب‘ بنانے کی ایک سازش قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چھوٹے صوبوں کو کمزور کر کے حکومت گریٹر پنجاب قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کا پانی اور دیگر وسائل کی کمی کا مسئلہ حل ہوسکے۔‘

سب سے شدید ردعمل اپنے آپ کو پختون قوم پرست کہلوانے والی عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ جماعت کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے پشاور میں ایک ہنگامی اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے ’گریٹر پنجاب‘ بنانے کی ایک سازش قرار دیا۔

اخباری کانفرنس میں اے این پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل افراسیاب خٹک، صوبائی صدر بشیر بلور اور لطیف آفریدی جیسے اہم رہنما بھی موجود تھے۔ غلام بلور کا کہنا تھا کہ اگر نواب بگٹی غدار ہوسکتا ہے تو اس ملک میں ہر کوئی غدار قرار دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جب حکمران مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین بلوچستان کے مسئلہ کا حل تلاش کرلینے کے دعوے کر رہے تھے اس کے بعد اس ہلاکت کی کیا وجہ رہ جاتی ہے۔

اے این پی نے واضع کیا کہ لڑائی اور جنگ سے کبھی بھی مسائل حل نہیں ہوتے۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی نے تیس اگست کو صوبہ بھر میں ضلعی سطح پر احتجاجی جلسے و جلوس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔

 ’جب حکومت ایسے کھیل پر اتر آتی ہے تو یہ اس ملک کے لیئے انتہائی خطرناک بات ہے۔ قتل چاہے غریب کا ہو یا امیر کا یا کسی سیاستدان کا ظلم ہے اور نہیں ہونا چاہیے۔‘
سید بادشاہ، شہری

اس سلسلے میں سب سے بڑا جلسہ صوبائی دارالحکومت میں ہوگا جس میں پشاور کے علاوہ نوشہرہ اور چارسدہ ضلع سے پارٹی کارکن حصہ لیں گے۔ اس کے علاوہ اے این پی نے ملک بھر میں نواب بگٹی کے ہلاکت پر احتجاج کا ساتھ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ادھر عوامی حلقوں میں بھی اس ہلاکت پر ملک کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پشاور کے جمشید باغوان کا کہنا تھا کہ ملکی یکجہتی کے لیئے یہ اچھا نہیں ہوا اور اس کے منفی اثرات جلد ظاہر ہوں گے۔ ’اگر یہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیئے جائیں تو بہتر ہے۔‘

ایک اور شہری سید بادشاہ کا کہنا تھا کہ ’جب حکومت ایسے کھیل پر اتر آتی ہے تو یہ اس ملک کے لیئے انتہائی خطرناک بات ہے۔ قتل چاہے غریب کا ہو یا امیر کا یا کسی سیاستدان کا ظلم ہے اور نہیں ہونا چاہیے۔‘

خصوصی ضمیمہ
بلوچستان باغی کیوں؟
بگٹی کے بعد
کوئٹہ میں مظاہرین کی توڑ پھوڑ، ہنگامے
اسی بارے میں
کراچی میں پرتشدد احتجاج
27 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد