BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 August, 2006, 21:07 GMT 02:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی فوجی آپریشن میں ہلاک

نواب اکبر بگٹی کئی مہینوں سے روپوش تھے
پاکستانی حکومت نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی فوجی آپریشن میں مارے گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ نواب اکبر بگٹی سنیچر کے روز ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے۔

کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ ان کے دو پوتے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ چھ جولائی کو بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا: ’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ وہ مجھے نشانہ بنارہے ہیں، وہ مجھے گزشتہ سال سترہ مارچ سے نشانہ بناتے رہے ہیں۔’

سنیچر کی شام وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات طارق عظیم نے بتایا کہ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ ان کے کچھ ساتھی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھیوں میں مری قبیلے کے کوئی سرکردہ رہنما ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں یا نہیں ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مری قبائل کے علاقے میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران 14 سیکورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

انہوں نے فوجی کارروائی کی مزید تفصیل بتانے سے بظاہر گریز کیا اور کہا کہ فی الوقت انہیں اتنا معلوم ہے کہ کارروائی کے دوران بعض شدت پسند بھی مارے گئے ہیں لیکن ان کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ وہ کون لوگ ہیں۔

نواب اکبر بگٹی کے داماد سینیٹر شاہد بگٹی کا کہنا ہے کہ گزشتے ایک ہفتے سے ان کا نواب بگٹی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رہا ہے۔

مری قبیلے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ نواب بگٹی نے ان کے علاقے میں پناہ لی تھی اور تاحال کسی بھی مری قبائل کے سرکردہ جنگجو کے مارے جانے کی انہیں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق مسلح قبائلیوں کے ایک ترجمان نے سنیچر کو ٹیلی فون پر بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے مخالف قبیلے کے کوئی ڈیڑھ سو افراد کے ساتھ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں پر حملے کیے ہیں۔

بعض مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جن میں سیکیورٹی فورسز اور ان کے حمایتی قبائلیوں کا جانی نقصان ہوا ہے اور دو ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ فورسز نے سبی اور سوئی ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر رکھی ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ چوبیس اگست کو جرگہ کے بعد سے حملے شروع کیے گئے ہیں جو آج بھی جاری رہے۔ سنیچر کی صبح چار ہیلی کاپٹروں نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں میں بمباری کی ہے۔

شام کو یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بعد میں جیٹ طیاروں سے بھی حملے کیے گئے۔

سیمینار: خودمختاری
بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ
’حالت خراب ہے‘
بلوچستان سے ڈھائی لاکھ افراد کی نقل مکانی
وہ کہاں گئے؟
گمشدہ بلوچ کارکنوں کا معمہ حل نہ ہو سکا
فائل فوٹوبچوں کا اغوا
کوئٹہ میں بچوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ
خصوصی ضمیمہ
بلوچستان باغی کیوں؟
ویب سائٹویب سائٹ پر دعویٰ
جلاوطن حکومت اور بلوچوں کی تردید
 بلوچ ویب سائٹوں پر پابندیانٹرنیٹ سنسر شپ
پاکستان میں بلوچ ویب سائٹوں پر پابندی
اسی بارے میں
خیر بخش مری عدالت سے بری
30 July, 2006 | پاکستان
بلوچستان میں مسلح جھڑپیں
26 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد