خیر بخش مری عدالت سے بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے سرکردہ رہنما نواب خیر بخش مری اور انکے دو صاحبزادوں میر بالاچ مری اور حیر بیار مری کو انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اسلحہ اور دھماکہ خیزمواد کے 4 مختلف مقدمات میں بری کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت جو نجیب اللہ غلزی پر مشتمل تھا نے سنیچر کے روز نواب خیر بخش مری اور انکے صاحبزادوں میر بالاچ مری اور حیربیار مری پر جرم ثابت نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں باعزت بری کیا۔ ان تینوں کے خلاف پولیس نے گزشتہ سال کوئٹہ کے نواح میں نیو کاہان کیمپ سے بھاری مقدار میں برامد ہونے والا اسلحہ اور دیگر تخریبی مواد کے الزام میں الگ الگ 4 مختلف مقدمات قائم کیے تھے اور اس سال کے اوائل میں انسداد دہشت گردی کی اسی عدالت نے باپ بیٹوں کو مذکورہ مقدمات کے سلسلے میں عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے کے الزام میں ہر ایک مقدمے میں پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی اور انہیں اشتہاری قرار دے دی اتھا۔ لیکن سنیچر کے روز عدالت نے آپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس اور دیگرحکومتی ادارے نواب خیر بخش مری اور انکے صاحبزادوں کے خلاف موثر ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور عدالت انہیں بری کر رہی ہے۔ گز شتہ سال بھی نواب خیر بخش مری اور انکے صاحبزادے ایک افغان کمانڈر خان محمد عرف خانو کے اغواء کے مقد مے میں بھی باعزت بری ہوگئے تھے ـ افغان کمانڈر کے مطابق نواب خیر بخش مری اور انکے دو صاحبزادوں نے 1995 میں انہیں اغوا ء کر کے تلی کے مقام پر لے گئے جہاں 5 سال تک انہیں قید رکھاآ ان کا دعوی تھا کہ وہ سنہ 2000 میں فرار ہو نے میں کا میاب ہوئے تھےـ اس کے علاوہ نواب مری، میر بالاچ مری، حیر بیار مری اور چنگیزمری کو مسلم لیگ کے موجودہ سنیٹر میر محبت خان مری کے قریبی رشتہ داراور کوہلو کے سابق نائب ناظم کے قتل کے الزام میں بھی مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا جو سنہ 2005 میں کوہلو میں ایک بارودی سرنگ پھٹنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھےـ تاہم نواب خیر بخش مری اور انکے بیٹوں کو ابھی تک بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نواز مری کے قتل کے مقدمے کا سامنا ہے جنہیں 7 جنوری سنہ 2000 میں بعض نامعلوم افراد نے دن دھاڑے بلوچستان ہائی کورٹ اور گورنر ہاوس سے چندگز کے فاصلے پر فائرنگ کر کے قتل کردیا تھاـ اس واقعہ کے کے فوراً بعد یعنی 12 جنوری سنہ 2000 کو پولیس نے نواب خیر بخش مری کو گرفتار کیا تھا۔ اٹھارہ مہینے جیل میں رہنے کے بعد نواب مری 10 لاکھـ روپ ضمانت پر رہا ہوئے ـ اس کے علاوہ نواب مری اور انکے صاحبزادوں پر ابھی تک کوئٹھ چھاونی پر راکٹ باری کےالزام میں بھی دہشت گردی کے مقدمات قائم ہیں ـ یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کھ خود نواب مری گزشتہ 3 سال سے کراچی میں کنارہ کشی کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ انکے صاحبزادے میر بالاچ مری جو کہ بلوچستان اسمبلی کے رکن بھی ہیں تاحال کوہلو کاہان کے پہاڑوں میں پاکستانی آرمی کے خلاف بر سر پیکار ہے کیونکہ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں وفاقی حکومت نے دسمبر 2005 سے تا حال فوجی آپریشن جاری رکھا ہوا ہےـ | اسی بارے میں خیر بخش مری کے گھر پر چھاپہ14 March, 2006 | پاکستان مری: لاٹھی چارج اور آنسو گیس 02 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||