مری: لاٹھی چارج اور آنسو گیس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں مری کیمپ یا نیوکاہان کے مکینوں نے دعوی کیا ہے کہ پولیس نے ان کے علاقے میں لاٹھی چارج کیا ہے اور آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں جبکہ پولیس حکام نے اس کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ادھر خاران میں ایک دھماکہ ہوا ہے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ مغربی بائی پاس کے قریب واقع مری کیمپ یا نیو کاہان کے علاقے میں پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈی آئی جی کوئٹہ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ پولیس نےکل آپریشن کیا لیکن کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا کچھ بچوں نے پتھراؤ کیا جنہیں پولیس حکام نے سمجھا دیا تھا۔ اس کے بر عکس مری کیمپ کے مکینوں نے کہا ہے کہ وہاں پولیس نے بچوں اور خواتین پر تشدد کیا ہے اور آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں۔ اس بارے میں نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ یہ ساری کارروائی بلوچوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں وہ لوگ چھپے ہوئے ہیں جو راکٹ باری اور بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت تک آٹھ افراد گرفتار ہو چکے ہیں اور اٹھارہ مطلوب ہیں جن میں سے تین انتہائی اہم ہیں۔ اس بارے میں بالاچ مری نے کہا ہے کہ خواتین کی بے حرمتی کرنا جائز نہیں ہے بلکہ یہ انھیں للکارنے کے برابر ہے۔ یاد رہے کہ دو ہفتے پہلے پولیس نے مری کیمپ پر چھاپہ مار کر کوئی پندرہ افراد کو گرفتار کیا تھا اور یہ دعوی کیا تھا کہ انھوں نے وہاں سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے۔ لیکن بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے اسے جھوٹ قرار دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے عہداداروں نے علاقے کے دورے کے بعد کہا تھا کہ ایسے شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہو کہ اس علاقے میں اسلحہ چھپایا گیا ہو یہ عقوبت خانے قائم کیے گئے ہوں۔ ادھر خاران میں رات گئے ایک جج کی رہائش گاہ کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس سے دیوار کو نقصان پہچا ہے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||