BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ گرفتاریوں پر قائدین کی مذمت

کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں اکثر احتجاجی مظاہرے ہوتےہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہو رہی
بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے مبینہ طور پر خفینہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بلوچوں کی غیر قانونی گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ان گرفتاریوں کے خلاف آئے روز کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اور سابق وزیرا علی بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے ایک لیڈر سابق سینیٹر ثنا بلوچ کے دو بھائیوں کو گزشتہ روز کوئٹہ کے عسکری پارک کے قریب نا معلوم افراد نے اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثنا بلوچ کے دونوں بھائیوں سمیع اللہ اور عبیداللہ کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں کوئی بھی حکومت کی غلط کاریوں کی نشاندہی کرے تو اسے اٹھالیا جاتا ہے۔

ادھر لندن سے ثناء بلوچ نے کہا ہے پہلے مریوں کو اٹھایا گیا پھر بگٹیوں کا نمبر تھا اور اب اس ملک میں ہر بلوچ کو اٹھایا جا رہا ہے۔

صوبائی قائدِ حزب اختلاف کہتے ہیں
بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اعلی عدالتوں کو اس بارے میں از خود نوٹس لینا چاہیے اور غیر قانونی طور پر زیر حراست افراد کو یا تو منظرعام پر لایا جا ئے یا انھیں رہا کیا جائے

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اعلی عدالتوں کو اس بارے میں از خود نوٹس لینا چاہیے اور غیر قانونی طور پر زیر حراست افراد کو یا تو منظرعام پر لایا جا ئے یا انھیں رہا کیا جائے۔

گزشتہ دنوں مری قبیلے کے ایک نوجوان جمند خان نے بازیابی کے بعد کوئٹہ پریس کلب میں کہا تھا کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے۔

یاد رہے نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے مرتضی بگٹی اور آغا شاہد بگٹی کے بھائی اور بھانجے کو اسی طرح اٹھایا گیا ہے۔ اس سے پہلے منیر مینگل غفار لانگوں علی اصغر بنگلزیی حافظ سعید گہرام صالح اور کئی دیگر لوگوں کو اٹھایا گیا ہے جن میں سے اکثر کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ وھ کہاں ہیں۔

اس سلسلے میں بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ بم دھماکوں اور راکٹ باری کے واقعات کے حوالے سے مطلوب افراد کو اٹھایا جاتا ہے جن سے تفتیش کے بعد بے گناہ لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کل رات شاہد بگٹی اور ہمایوں مری کی رہائش گاہوں کا محاصرہ ختم کر دیا گیا ہے ۔شاہد بگٹی نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ حکومت کی چال نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں
صحافی کی گمشدگی: تشویش
12 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد