’ایجنسیوں کا کام قانوناً ممکن نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو لوگوں کی حراست میں لینے کا اختیار نہیں ہے تاہم وہ لوگوں کو اٹھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پیچیدہ کام قانون کے تحت ممکن نہیں۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی نے یہ بات لاپتہ پاکستانیوں کے بارے میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک خصوصی پروگرام میں کہی۔ اسلام آباد سے براہِ راست ویب کاسٹ کیئے جانے والے اس پروگرام میں متاثرہ خاندانوں کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی اور انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان نے بھی شرکت کی جبکہ امریکی شہری صفدر سرکی کی اہلیہ امریکہ سے ٹیلی فون کے ذریعے براہ راست پروگرام میں شریک ہوئیں۔ پروگرام کے آغاز میں میزبان وسعت اللہ خان نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر کسی شخص کو حکومتی ایجنسیوں کے اہلکار اٹھا کر لے جائیں تو اس شخص کے رشتہ دار اور عزیز کیا کریں اور کیا ملک میں ایسی کوئی ہیلپ لائن موجود ہے جو کہ ان افراد کی مدد کر سکے۔ اس سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ’ ہر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے اور ملک کا عدالتی نظام ہی اصل میں ہیلپ لائن ہے‘۔ اس سوال پر کیا پاکستانی خفیہ ایجنسیاں لوگوں کو حراست میں لیتی ہیں اور کیا انہیں اس کا اختیار حاصل ہے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا کہنا تھا کہ’ خفیہ ایجنسیوں کو لوگوں کی حراست میں لینے کا اختیار تو نہیں لیکن یہ بات صحیح ہے کہ خفیہ ایجنسیاں لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں۔ دراصل کاؤنٹر انٹیلیجنس کا کام نہایت پیچیدہ ہے اور اگر قانون کے مطابق چلا جائے تو یہ کام ممکن نہیں‘۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ان افراد کی گمشدگی ان کے گھر والوں کے لیئے کسی عذاب سے کم نہیں اور اس عمل کا دفاع کسی طور پر ممکن نہیں۔ اسد درانی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کسی کو حراست میں لینے کا فیصلہ کس سطح پر کیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ’ اس کام کا کوئی طے شدہ طریقہ نہیں ہے‘۔ انہوں نے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری دہشت گردی کی مثال دے کر کہا کہ’اس سلسلے میں ان حالات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے لیکن میں مانتا ہوں کہ یہ سارا طریقۂ کار شفاف نہیں ہے‘۔ جیئے سندھ قومی محاذ کے گمشدہ کارکن مظفر بھٹو کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کی گرفتاری کے بعد رابطے پر پولیس نےایک ہفتے کا وقت مانگا تا کہ وہ مظفر بھٹو کے بارے میں معلومات فراہم کر سکیں لیکن اس کے بعد سے تاحال انہیں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی تلاش کے سلسلے میں اپنے فرائض ادا کرے اور ایسے اقدامات کرے کے اس سلسلے میں شکایات پیدا نہ ہوں۔ ’ ہم اس قسم کے واقعات کے حوالے سے خود سٹینڈ لیتے رہے ہیں لیکن میں یہ کہوں گا کہ صحافت سمیت ہرادارے کا اپنا ایک کردار ہوتا ہے اور اگر وہ اپنی حد سے تجاوز کرے تو مسائل پیدا ہوں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اس پروگرام سے قبل ان گمشدگیوں کی تفصیلات فراہم کی جاتیں تو وہ بھی اپنے ہمراہ اعداوشمار لے کر آتے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس ایسے ہزاروں شواہد موجود ہیں کہ لوگ جرائم میں ملوث ہیں ، ان کی ذاتی جیلیں ہیں کاش اپ اس پر بھی کوئی پروگرام کرتے‘۔ اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان نے کہا کہ’ حکومت اور ایجنسیاں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کی آڑ میں انسانی حقوق پامال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر صرف اتنی ہی بات لوگوں کو بتا دی جائے کہ فلاں شخص فلاں ادارے کے پاس ہے اور اس کی جائے حراست اور رہائی کے بارے میں حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر نہیں بتایا جا سکتا تو تب بھی کسی حد تک رشتہ داروں کو تسلی مل سکتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی جگہ لیکن یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ کسی حالت میں بھی بنیادی انسان ی حقوق کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ’میں نہیں کہتا کہ حکومتی ادارے گرفتاریاں نہ کریں لیکن اگر ان کے خلاف الزامات ہیں تو انہیں منظر عام پر لائیں اور ان کے خلاف مقدمات چلائیں‘۔ اس موقع پر نو ماہ سے لاپتہ ستار ہکڑو کے بھائی سہیل ہکڑو نے بتایا کہ ان کے بھائی کی گرفتاری کے لیئے ان کے گھر پر ایجنسیوں کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور ان کی بہنوں کو گالیاں دیں۔ اس پر وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ’ان افراد کا دکھ جائز ہے لیکن میرے پاس ڈیرہ بگٹی کے ان افراد کے کیس بھی ہیں جنہیں کوئی اور اٹھ کر لے گیا ہے اور ہم ان کیسوں کو بھی حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا وہ اپنے بیان میں حکومت کی ناکامی کو تسلیم کر رہے ہیں محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں اس حکومت کی ناکامی کو بیان کررہا ہوں جسے ایک طرف دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور دوسری جانب اپنے شہریوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہے‘۔ سہیل ہکڑو کے اس سوال پر کہ گرفتارشدہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ’ اگر عوام کوئی غیر قانونی کام کریں تو وہ یقیناً قابلِ مذمت ہے لیکن اگر حکومت کسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اسے زیادہ سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے۔ امریکہ سے بذریعہ ٹیلیفون پروگرام میں شریک صفدر سرکی کی اہلیہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گمشدہ شوہر کی بازیابی کے لیئے امریکی حکومت کے اہلکاروں اور امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے سے بھی براہ راست رابطہ کیا ہے لیکن تاحال صفدر سرکی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اس پر محمد علی درانی سے پوچھا گیا کہ کیا اس قسم کے واقعات ملک کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی کا باعث نہیں بنتے تو انہوں نے کہا کہ’ساری دنیا میں ہی بدنامی کا بازار لگا ہوا ہے‘۔ پروگرام کے اختتام پر محمد علی درانی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ملک میں ادارے شخصیتوں سے زیادہ مضبوط نہ ہوں جائیں ان مسائل کا حل ہونا آسان نہیں اور ہمیں اس وقت تک کوشش کرنی ہو گی کہ ایسے واقعات کم سے کم ہوں۔ |
اسی بارے میں رؤف کشمیری کو رہائی مل گئی02 July, 2006 | پاکستان بی این پی کے رہنما چھ روز سے لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان وہ جو لاپتہ ہیں۔۔۔دوسرا حصہ30 June, 2006 | Poll | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||