رؤف کشمیری کو رہائی مل گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے سربراہ ڈیڑھ ماہ غائب رہنے کے بعد اتوار کی شام پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے گھر پہنچے گئے۔ تنظیم اور خاندان والوں کے مطابق ان کو پاکستان کی خفیہ ایجنیسوں نے مئی کے وسط میں مبینہ طور پر اس وقت اپنی تحویل میں لےلیا تھا جب ان کو بھارتی حکومت نے رہا کرکے واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا تھا ۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے سربراہ رؤف کشمیری کو پندرہ سال بعد اس سال مئی کے وسط میں بھارتی جیل سے رہائی ملی اور سترہ مئی کو انہیں واہگہ کی سرحد پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔ لیکن وہ گھر نہیں پہنچے اور ان کی تنظیم اور گھر والوں نے یہ الزام لگایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ رؤف کشمیری ان چھ افراد میں شامل تھے جن کو بھارتی جیلوں سے رہائی کے بعد مئی کے وسط میں حکومت پاکستان کو واپس کردیا گیا تھا۔ سنتالیس سالہ رؤف کشمیری کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلندری کے گاؤں گوراہ سے ہے ۔ ان کو جون انیس سو اکانوے میں بھارتی فوج نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ لائن آف کنڑول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوگئے تھے۔ ستمبر دو ہزار میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ایک عدالت نے ان کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت غیر قانونی طور پر لائن آف کنڑول عبور کرنے اور اسلحہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ریاست میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیئے سرحد پار سے اسلحہ لانے کے الزام میں دس برس کی سزا سنائی ۔ فیصلے کے وقت چونکہ رؤف کشمیری پہلے ہی تفتیش اور مقدمے کی کارروائی کے دوران اپنی سزا پوری کرچکے تھے اس لیئے عدالت نے ان کو بری کیا اور ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ کہ ان کو تین ماہ کے اندر واپس پاکستان بھیج دیا جائے۔ اس حکم پر عمل درآمد تو نہیں ہوااور بھارت کی حکومت نے ان کو سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لےلیا اور رؤف کشمیری مئی کے وسط میں اپنی رہائی تک بھارت کی ریاست راجستھان میں جودھ پور جیل میں رہے ۔ بھارتی جیل سے رہائی کے ساتھ ہی ان کو واہگہ باڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا لیکن وہ ڈیڑھ ماہ غائب رہنے کے بعد اتوار کی شام کو اپنے گھر پہنچے۔ کشمیری کی اہلیہ نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دے رکھی تھی جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے ان کے شوہر کو حبس بے جا میں رکھا ہے۔ عدالت نے حکومتِ پاکستان سے کہا تھا کہ وہ تیس جون تک رؤف کشمیری کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں۔ |
اسی بارے میں پندرہ سال سے باپ کا انتظار19 May, 2006 | پاکستان رؤف کشمیری: دو ملکوں کا قیدی26 June, 2006 | پاکستان تاریخ: پاکستان میں سیاسی گمشدگیاں01 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||