BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 July, 2006, 06:27 GMT 11:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصل آباد کا باسط کہاں گیا؟

فائل فوٹو
حافظ عبدالباسط کو پولیس نے کوئی مقدمہ قائم کیئے بغیر اپنی تحویل میں لیا تھا
فیصل آباد کے بوڑھے اور کینسر کے مریض بشیر احمد کو ڈھائی سال سے اپنے اکیس سالہ بیٹے حافظ عبدالباسط کی تلاش ہے جسے پولیس نے کوئی مقدمہ قائم کیئے بغیر اپنی تحویل میں لیا تھا لیکن وہ اب تک واپس گھر نہیں آیا۔

جنوری سنہ دو ہزار چار میں عبدالباسط کو اس کے چچا حافظ ناصر نے پولیس کے مطالبہ پر کسی حساس معاملے کی تفتیش کے لیئے ان کے حوالے کیا تھا۔

عبدالباسط کی بازیابی کے لیئے اس کے باپ نے دسمبر سنہ دو ہزار پانچ میں لاہور ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی ایک درخواست دائر کی تھی جسے جمعرات کو جج بلال خان نے اس ہدایت کے ساتھ نمٹا دیا کہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس اس معاملہ کی تحقیق کریں اور یہ کہ وہ اس سلسلہ میں فیصل آباد کے ضلعی پولیس افسر کے عدالت میں دیئے گئے بیان سے متفق نہیں۔

فیصل آباد پولیس کے دو افسران۔ ضلعی پولیس افسر اور ڈی ایس پی نے عبدالباسط کے حراست میں لیئے جانے یا نہ لیئے جانے پر عدالت عالیہ لاہور میں جو بیانات داخل کرائے ہیں ان میں واضح تضاد ہے۔

فیصل آباد کے ایک ڈپٹی سپرٹنڈنٹ پولیس طارق گجر نے عدالت عالیہ لاہور میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس نے باسط کو ایک حساس معاملہ کی تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا لیکن بعد میں ضلعی پولیس افسر عبدالباسط کو اپنے ساتھ لے گئے تھے اور وہی اس کا اتا پتہ بتاسکتے ہیں۔

پولیس کے رحم و کرم پر
 لاہور ہائی کورٹ کے جج نے آئی جی پولیس کو معاملہ کی چھان بین کرنے کا حکم دے کر متاثرہ خاندان کوایک بار پھر پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

تاہم ڈی پی او فیصل آباد نے عدالت کو بتایا کہ حافظ باسط پولیس کو مطلوب نہیں تھا اور نہ ہی اسے گرفتار کیاگیا۔

ضلعی پولیس افسر کی رپورٹ میں ڈی ایس پی کے بیان سے مختلف بات لکھی گئی ہے اور ڈی ایس پی طارق گجر سے یہ منسوب کیاگیا ہے کہ انہوں نے عبدالباسط کو اے ایس آئی پولیس انسداد دہشت گردی سیل فیصل آباد افتخار احمد کی تحویل میں دیا تھا۔

افتخار احمد نے عدالت عالیہ میں اپنے بیان میں کہا کہ ملزم باسط صدرمشرف پر حملہ کے سلسلہ میں مطلوب تھا اور اس نے باسط کو پنجاب میں انسداد دہشتگردی سیل (سی ای ڈی) کے حکم پر پنڈی بھٹیاں ٹول پلازا پر فوجی افسران کے حوالہ کردیا تھا۔

گمشدہ نوجوان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے ڈی ایس پی طارق گجر نے ان کے گھر پر اچانک چھاپہ مارا اور ان کے گھر میں داخل ہوکر ٹیلی فون پر ان کی ان کے بیٹے عبدالباسط سے بات کروائی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج نے آئی جی پولیس کو معاملہ کی چھان بین کرنے کا حکم دے کر متاثرہ خاندان کوایک بار پھر پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد