پاکستان میں اس وقت سینکڑوں ایسے لوگ غائب ہیں جن کے بارے میں ان کے خاندان والوں کا خیال ہے کہ وہ سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ ایف آئی آر کی تفصیلات، ہائی کورٹ میں حبس بے جا کے مقدمے، پریس کلبوں کے باہر بھوک ہڑتال اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے انگنت دستاویزات کے باوجود یہ پتہ نہیں کہ وہ ابھی تک کسی ٹارچر سیل میں زندہ ہیں یا مارے گئے۔ گمشدگان کی فہرست بنانا آسان کام نہیں ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں تعینات اپنے نامہ نگاروں اور صحافیوں کی مدد سے ملک میں پچھلے کچھ عرصے سے لاپتہ کچھ افراد کے بارے میں معلومات اکھٹا کی ہیں۔ درج ذیل فہرست انہی معلومات پر مبنی ہے لیکن یہ ہرگز حتمی فہرست نہیں ہے اور مزید معلومات سامنے آنے کی صورت میں اسے اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔ اگر آپ ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں جو لاپتہ ہے، تو ہمیں لکھ بھیجیے۔ ایڈیٹر بی بی سی اردو ڈاٹ کام
| 21 --- حافظ سعید بنگلزئی، کوئٹہ، بلوچستان، چار جولائی دو ہزار تین: | حافظ سعید بنگلزئی کے بھائی حفیظ الرحمن کے بقول وہ اس بات کے عینی گواہ ہیں کہ ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے ان کے بھائی کو اپنی تحویل میں لیا تھا۔ پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ بھائی نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے بھائی اور والد نے چھ ماہ تک پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے رکھا۔
| 22 --- راجہ احمد کچکی، تحصیل تربت، بلوچستان، انتیس دسمبر دو ہزار پانچ: |
راجہ احمد شام ساڑھے سات بجے محلہ کے چائے خانے میں جو شاہی تمپ میں واقع ہے، بیٹھے ہوئے تھے جہاں سے ان کے اہل خانہ کے مطابق فرنٹئیر کانسٹیبلری کے ایک کرنل انہیں اٹھا کر لے گئے۔ پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کی گئی ہے۔
| 23 --- طارق جاسم بلوچ، تحصیل مند، بلوچستان، پندرہ اگست دو ہزار چار: |
اہل خانہ کے مطابق موضع تلار چیک پوسٹ تحصیل پسنی، ضلع گوادر سے پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لیا۔
| 24 --- مسلم یعقوب بلوچ، تحصیل مند، بلوچستان، دو ہزار پانچ: |
اہل خانہ کے مطابق مند سے ایف سی کے اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لیا۔
| 25 --- زاہد کریم بخش، گوادر، بلوچستان، انیس مارچ دو ہزار چھ: |
اہل خانہ کے مطابق ہنگول اور ماڑہ چیک پوسٹ کوسٹل ہائی وے میں اس گاڑی کا نمبر درج ہے جس میں وہ سفر کررہے تھے۔ بعد میں وہ کہاں غائب ہوئے اس کا کسی کو علم نہیں۔
| 26 --- حفیظ الرحمن، گوادر، بلوچستان، انیس مارچ سال دو ہزار چھ: |
حفیظ الرحمن کے متعلق بھی کہا جا رہا ہے کہ ہنگول اور ماڑہ کی چیک پوسٹ کوسٹل ہائی وے میں اس گاڑی کا نمبر درج ہے جس میں وہ سفر کررہے تھے لیکن بعد میں ان کا بھی پتہ نہیں چل سکا۔
| 27 --- علی اصغر بنگلزئی، کوئٹہ، بلوچستان، اٹھارہ اکتوبر دو ہزار ایک: | ڈگری کالج سریاب روڈ کوئٹہ کے سامنے علی اصغر اور محمد اقبال کو کسی سرکاری ایجنسی کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ اقبال کو بعدمیں چھوڑ دیاگیا۔ وہ عینی گواہ ہیں۔ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔
| 28- غلام رسول ، ڈیرہ غازی خان ، پنجاب، پچیس اپریل دو ہزار چھ: |
غلام رسول کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ان کی آخری ملاقات بستی ملانہ میں ناظم یونین کونسل سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے غائب ہیں۔ بھائی غلام اکبر ہوتن گواہ ہیں۔ تھانہ کوٹ چھٹہ میں ایف آئی آر درج ہے۔
| 29 --- عاطف ادریس، چونگی امرسدھو، لاہور، پنجاب، تیرہ اگست، دو ہزار چار: |
ماں سروری بیگم اور بھائی آصف کا کہنا ہے کہ وہ کالج جارہے تھے کہ راستے میں انہیں کسی سرکاری ایجنسی کے اہلکار پکڑ کر لے گئے اور کچھ عرصہ بعد ایک فوجی میجر ان کی چیزیں اور کاغذات جیسے ان کی والدہ کی پنشن بک وغیرہ واپس کرگئے۔
| 30 --- سید ارشاد حسین شاہ، ضلع باغ، پاکستان زیر انتظام کشمیر، پانچ فروری، دو انیس سو بانوے: |
راولپنڈی میں ای ایم ای چیف انسپکٹوریٹ آف آرمامنٹس میں ملازم تھے۔ آخری بار انہیں اپنی یونٹ میں دیکھا گیا۔ وہ کرنل کے ساتھ ڈیوٹی پر گئے تھے۔ بیوی کو پنشن ملتی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق کرنل کا کہنا ہے کہ ’وہ بھگوڑا ہے‘۔
| 31 --- محمد رؤف کشمیری، ضلع پلندری، پاکستانی زیر انتظام کشمیر، سترہ مئی دو ہزار چھ: |
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گرفتار ہوئے اور دہشت گردی کے الزام میں سزا ہوئی۔ پندرہ سال بھارت میں جودھ پور جیل میں گزارنے کے بعد اس سال لاہور پہنچے تو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ بیوی تسنیم نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
بلوچ قوم پرست کارکن ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
| 33 --- ڈاکٹر عافیہ صدیقی، یکم اپریل دو ہزار تین: |
پاکستانی اور امریکی شہری ہیں جو مبینہ طور پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر اپنے تین بچوں سمیت گمشدہ بتائی جاتی ہیں۔ واشنگٹن میں انسداد برائے تشدد کے لیئے سرگرم ایک تنظیم ’ٹارچر ایبالیشن اینڈ سروائورز سپورٹ کولیشن انٹرنیشنل‘ کے مطابق کوگنیوٹو نیورو سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈیگری رکھنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی تیس مارچ دو ہزار تین کو پاکستان میں والدہ کے گھر سے اپنے تین بچوں سمیت اپنے چچا سے ملنے کے لیئے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوئی تھیں۔ تب سے ان کے اور ان کے تین بچوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ پاکستانی اور این بی سی سمیت امریکی میڈیا نے پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں ان کی مبینہ گرفتاری کی خبریں شائع اور نشر کی تھیں، جن کی پہلے پاکستانی وزارت داخلہ نے تصدیق بھی کی لیکن بعد میں بیان بدل دیا۔
| 34 --- خرم نواز، لاہور، تیرہ اگست دو ہزار پانچ: |
گیارہ سالہ خرم نواز لاہور میں اپنی خالہ کے پاس رہتا تھا۔ وہ تیرہ اگست دو ہزار پانچ کو لاپتہ ہوا۔ چار ماہ بعد اہل خانہ کو پتہ چلا کہ وہ فرید کوٹ (بھارتی پنجاب) کی جیل میں ہے۔ اہل خانہ کے مطابق اس سال سترہ مئی کو رہا ہو کر واہگے کے راستے پاکستان پہنچا تو سیکیورٹی ایجنیسوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
| 35 --- عمران مسیح، ضلع فیصل آباد، پنجاب، دو ہزار چھ: |
انسانی حقوق کی ایجنسی کے مطابق عمران مسیح اس سال سترہ مئی کو بھارت سے رہا ہوکر واہگہ پہنچا جہاں سے سیکیورٹی ایجنسیوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
| 36 --- مٹھن مسیح، ضلع فیصل آباد، پنجاب، دو ہزار چھ: |
اس سال سترہ مئی کو بھارت سے رہا ہوکر واہگہ پہنچا جہاں سے سیکیورٹی ایجنسیوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
| 37 --- میر اصغر مری، ڈیرہ غازی خان، اٹھائیس جنوری، دو ہزار چھ: | بلوچستان کے علاقے کوہلو کے مری قبیلے کی ذیلی شاخ پیر دادانی کے سربراہ میر اصغر مری کو سال دو ہزار چھ، اٹھائیس جنوری کے روز مبینہ طور پر پولیس اور سفید کپڑوں میں ملبوس کچھ افراد نے دن دیہاڑے اس وقت ’اغوا‘ کر لیا جب وہ اپنے سات سالہ بیٹے ریحان اور ایک عزیز کے ساتھ پنجاب کے جنوبی شہر ڈیرہ غازی خان کے مصروف فریدی بازار سے گزر رہے تھے۔ ان کے خاندان اور قبیلے نے الزام لگایا کہ اصغر مری کو حکومتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے۔ اپنے مبینہ اغوا سے کچھ روز قبل میر اصغر مری نے بعض دوسرے قبائلی عمائدین کے ہمراہ ملتان میں ایک اخباری کانفرنس کے ذریعےکوہلو اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں جاری مبینہ فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ میر اصغر مری ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ڈیرہ پولیس اس بات سے مسلسل انکار کر رہی ہے کہ اصغر مری ان کے پاس ہیں۔
| 38 --- حاجی جان محمد مری، چھ جولائی دو ہزار پانچ: |
چھ جولائی کو مری قومی جرگے کے ایک اہم ممبر حاجی جان محمد مری کو، جن کی عمر اسی سال کے قریب ہے، اغوا کیا گیا۔ ان کے بارے میں آج تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔
| 39 --- حافظ عبدالباسط، فیصل آباد، جنوری سنہ دو ہزار چار: |
جنوری سنہ دو ہزار چار میں اکیس سالہ عبدالباسط کو اس کے چچا نے پولیس کے مطالبہ پر تفتیش کے لیئے ان کے حوالہ کیا۔ اس پر جنرل پرویز مشرف پر حملہ میں شریک ہونے کا الزام تھا۔ فیصل آباد کے ایک ڈپٹی سپرٹنڈنٹ پولیس طارق گجر نے عدالت عالیہ لاہور میں اپنی رپورٹ میں کہا اس نے باسط کو ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) کے حوالے کر دیا تھا اور وہی اس کےبارے میں جانتے ہوں گے۔ ڈی پی او نے عدالت کو بتایا کہ حافظ باسط پولیس کو مطلوب نہیں تھا اور نہ اسے گرفتار کیاگیا۔ ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ اس نے باسط کو اے ایس آئی پولیس انسداد دہشت گردی سیل فیصل آباد افتخار احمد کی تحویل میں دیا تھا۔ افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم باسط صدرمشرف پر حملہ کے سلسلہ میں مطلوب تھا اور اس نے باسط کو پنجاب میں انسداد دہشت گردی سیل (سی آئی ڈی) کے حکم پر پنڈی بھٹیاں ٹول پلازا پر فوجی افسران کے حوالہ کردیا تھا۔ باسط کے والد بشیر احمد نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیئے لاہورہائی کورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت عالیہ کے جج بلال خان نے اس سال انتیس جون کو انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو یہ حکم دے کر وہ معاملہ کی تحقیق کریں ان کی درخواست نپٹا دی۔
| 40 --- ذوالفقار ملغانی، ڈیرہ غازی خان، جون سنہ دو ہزار چھ: |
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے صدر ذوالفقار ملغانی بلوچ جون 2006 کے آخری ہفتے سے لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں حکومتی خفیہ اداروں نے تونسہ شریف کے بازار سے اغوا کیا ہے۔ذوالفقار بلوچ کے بھائی ظفر بلوچ کے مطابق ان کے بھائی کو بلوچستان میں جاری ’فوجی آپریشن‘ کی مزحمت کرنے پر بعض حکومتی اداروں کی طرف سے مسلسل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ظفر بلوچ کے مطابق ان کے بھائی کو بدھ کے روز تونسہ کی تحصیل کچہری کے قریب سفید کپڑوں میں ملبوس چند نامعلوم افراد ایک جیپ میں بیٹھا کر لے گئے تھے اور اب تک ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔
| 41 --- آصف بالادی، جامشورو، جون سنہ دو ہزار چھ: |
سندھی قوم پرست رہنما آصف بالادی 30 جون 2006 سےگم ہیں اور خدشہ ہے کہ انہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار گرفتار کر کے کسی نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔ آصف بالادی سندھی قوم پرست تنظیم جئے سندھ محاذ کے سابق رہنما ہیں جو اپنی مبینہ گمشدگی سے پہلے زیادہ تر اپنا وقت کراچی اور جام شورو کے درمیان گزار رہے تھے۔ اگرچہ وہ عملی سندھی قوم پرست سیاست سے کنارہ کش بتائے جاتے تھے لیکن انہوں نے اپنی ایک تنظیم سندھی نیشنلسٹ فورم قائم کی تھی۔
| 42 --- محمد اسلم، مظفر گڑھ ۔ ستائیس ستمبر دو ہزار پانچ: |
محمد اسلم پنجاب کے جنوبی ضلع مظفر گڑھ کے ایک دینی مدرسے میں زیر تعلیم رہے تھے۔ بعد میں مبینہ طور پر افغانستان چلے گئے جہاں عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد طالبان کی صفوں میں شامل ہوگئے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان واپس آگئے اور، بقول ان کے والد فیض بخش کے، مظفر گڑھ کی ایک جیوٹ مل میں ملازمت اختیار کر لی۔ فیض بخش بھی اسی مل میں ملازم ہیں۔فیض بحش کے مطابق ستائیس ستمبر، سال دو ہزار پانچ، کے روز سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کی قیادت میں متعدد باوردی فوجی شام کے وقت ان کے گھر آئے اور اسلم کو ساتھ لے گئے۔ تب سے آج تک اسلم کی کوئی خبر نہیں۔ فیض بخش کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی تھانے سے لیکر صدر پاکستان تک ہر جگہ درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
|