BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وہ جو لاپتہ ہیں۔۔۔
پاکستان میں اس وقت سینکڑوں ایسے لوگ غائب ہیں جن کے بارے میں ان کے خاندان والوں کا خیال ہے کہ وہ سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ ایف آئی آر کی تفصیلات، ہائی کورٹ میں حبس بے جا کے مقدمے، پریس کلبوں کے باہر بھوک ہڑتال اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے انگنت دستاویزات کے باوجود یہ پتہ نہیں کہ وہ ابھی تک کسی ٹارچر سیل میں زندہ ہیں یا مارے گئے۔ گمشدگان کی فہرست بنانا آسان کام نہیں ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں تعینات اپنے نامہ نگاروں اور صحافیوں کی مدد سے ملک میں پچھلے کچھ عرصے سے لاپتہ چند افراد کے بارے میں معلومات اکھٹا کی ہیں۔ درج ذیل فہرست انہی معلومات پر مبنی ہے لیکن یہ ہرگز حتمی فہرست نہیں ہے اور مزید معلومات سامنے آنے کی صورت میں اسے اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔ اگر آپ ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں جو لاپتہ ہے، تو ہمیں لکھ بھیجیے۔ ایڈیٹر بی بی سی اردو ڈاٹ کام


گمشدہ افراد کے نام و مختصر تفصیل


1 --- مظفر بھٹو، کوئٹہ، اکتوبر دو ہزار پانچ:
سندھی قوم پرست تنظیم جیۓ سندھ متحدہ محاذ کے عہدیدار ہیں۔ انہیں اکتوبر دو ہزار پانچ میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے بھائی سکندر بھٹو کے مطابق، تب سے آج تک ان کی گرفتاری کے مقام و حالات یا زندہ ہونے کا کوئی پتہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں ’اگرانہیں مار بھی دیا گیا ہے تو کم از کم ان کی لاش حاصل کرنا تو ہمارا حق ہے!‘


2 --- ستار ہکڑو، سندھ،
جیۓ سندہ متحدہ محاذ کے عہدیدار ہیں۔ ان کے بھائی سہیل ہکڑو کے مطابق وہ گھر والوں کو کراچی نوکری تلاش کرنے کے لیئے جانے کا کہہ کر گئے تھے تب سے گم ہیں۔ سہیل ہکڑو کے مطابق ان کی پارٹی والوں نے بتایا کہ انہیں خفیہ ایجینسیوں والے گرفتار کر کے لے گئے ہیں تب سے ان کے متعلق ان کے گھر والوں اور دوستوں کو کچھ بھی معلوم نہیں۔


3 --- نواز خان زوئنر، میرپور، ضلع ٹھٹہ، اکتیس دسمبر دو ہزار پانچ:
سندھی شاعر ہیں اور جیۓ سندھ متحدہ محاذ سےتعلق رکھتے ہیں۔ بولہاڑی ریلوے اسٹیشن نزد کوٹری جامشورو سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک ویران جگہ پر مبینہ طور پر سرکاری اہلکاروں نے ٹرین رکوا کر انہیں نیچے اتارا اور اپنی تحویل میں لےلیا۔ ان کےایک ساتھی ذوالفقار کولاچی کو بھی اسی وقت حراست میں لیا گیا تھا لیکن ڈیڑھ ماہ بعد چھوڑ دیا گیا۔ وہ عینی گواہ ہیں۔


4 --- ذوالفقار خاصخیلی ، سندھ، دو ہزار پانچ:

جیۓ سندھ متحدہ محاذ کے سرگرم کارکن ہیں اور آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ سے لاپتہ ہیں۔


5 ---- احمد خان تیونو، لاڑکانہ، سولہ اکتوبر دو ہزار پانچ:
جیۓ سندھ متحدہ محاذ کی سینٹرل کمیٹی کے رکن ہیں اور سولہ اکتوبر دو ہزار پانچ کے وسط میں لاڑکانہ سے گرفتار کیے گئے تھے۔ اب تک لاپتہ ہیں۔


6 --- ڈاکٹر صفدر سرکی، کراچی، چوبیس مارچ دو ہزار چھ:
امریکی شہری ہیں اور جيۓ سندھ قومی محاذ کے جنرل سیکرٹری اور امریکہ و برطانیہ میں سرگرم ورلڈ سندھی کانگرس کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ اصل میں امریکی ریاست ٹیکساس کےرہنے والے ہیں۔ صفدر سرکی کو چوبیس مارچ دو ہزار چھ کو کراچی سے ان کی بہن کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے پارٹی ساتھیوں اور اہل خانہ کے مطابق انہیں گرفتار کرنے والوں نے اپنا تعلق پولیس سے بتایا تھا اور انہیں گرفتاری کے وقت مبینہ طور سخت تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ڈاکٹر سرکی تب سے لاپتہ ہیں اورپولیس اور دیگر سرکاری ایجنیسیاں ان کی گرفتاری سے اب تک اپنی لاعلمی ظاہر کرتی رہی ہیں۔


7 ---- سکندر سومرو، سندھ دو ہزار پانچ:
سکندر سومرو سندھ کے حقوق کے لیئے کام کرنے والی جماعت جیۓ سندھ متحدہ محاذ کے سرگرم کارکن ہیں۔ سکندر سومرو کو مبینہ طور پر سرکاری ایجنسیوں نے سن دو ہزار پانچ میں گرفتار کیا۔ وہ اب تک لاپتہ ہیں۔


8 --- آکاش عرف سکندر ملاح، قاسم آباد ، حیدرآباد: دو ہزار چھ:
جیۓ سندھ قومی محاذ کے سابق عہدیدار ہیں جنہیں چند ماہ قبل قاسم آباد حیدر آباد سے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اب تک لاپتہ ہیں اور پولیس ان کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کر رہی ہے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور ان کی گرفتاری کے وقت وہ (علاقے کے لوگ) پولیس کے پیچھے تھانے تک بھی گئے تھے جہاں آکاش ملاح کو لایا گیا تھا۔ لیکن اب پولیس اور دیگر سرکاری ایجینسیاں آکاش ملاح کی گرفتاری سے اپنی لاعلمی کا اظہار کر رہی ہیں۔


9 --- مانجھی چانڈیو، قاسم آباد ، حیدرآباد، دو ہزار چھ:
مانجھی چانڈیو بھی جیۓ سندھ قومی محاذ کے سرگرم کارکن ہیں۔ انہیں قاسم آباد حیدرآبا د سے آکاش ملاح کے ساتھ ایک ہی جگہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ بھی اب تک لاپتہ ہیں اور پولیس ان کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کررہی ہے۔


10 --- رؤف ساسولی، کراچی، دو فروری دو ہزار چھ:

کراچی کے مشہور بلوچ قوم پرست رہنما ہیں اور وہ نواب اکبر بگٹی کی جہموری وطن پارٹی کے عہدیدار ہیں۔ ان کی پارٹی کے ساتھی اور اہل خانہ ان کی گرفتاری اور اب تک گمشدگی کے الزامات پاکستان کی خفیہ ایجنیسوں پر لگاتے ہیں۔ اندرون سندھ صحافتی ذرائع کے مطابق رؤف ساسولی سندھ سے کچھ صحافیوں کو بلوچستان لے جا کر انہیں وہاں کی صورت حال دکھاتے رہے تھے اور آخری بار انہوں نے لاہور میں انسانی حقوق کے متعلق ایک ریلی میں شرکت کی تھی۔


11 --- منیر مینگل، کراچی ائیر پورٹ، سات اپریل دو ہزار چھ:
ٹی وی جرنلسٹ ہیں اور بلوچ وائیس کے نام سے ٹی وی چینل کھولنا چاہتے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں اپریل دو ہزار چھ میں بحرین سے کراچی ائيرپورٹ پر اترتے ہی ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔ ان کی بیوی عزیزہ مرزا کا کہنا ہے کہ منیر ٹی وی سٹیشن کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیئے کراچی آئے اور آتے ہی انہیں اغوا کر لیا گیا۔ بلوچ وائس نامی ٹی وی سٹیشن کی نشریات سولہ جون سے شروع ہونا تھیں۔


12 --- حنیف شریف، کیچ ریسٹورینٹ، پندرہ جنوری، دو ہزار چھ:
بلوچ افسانہ نگار و مصنف ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کیچ ریسٹورنٹ نزد نیشنل بنک تربت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عینی شاہدین کے مطابق ایک خفیہ ایجنسی کے سات اہلکاروں نے گن پوائنٹ پر انہیں اپنی تحویل میں لیا۔ ان کی بازیابی کے لیئے بلوچستان ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائرکی گئی اور ان کی والدہ اور اہل خانہ نے کراچی پریس کلب کے سامنے چالیس دن سے زیادہ عرصے تک بھوک ہڑتال کی اور ان کی رہائی کے حق میں مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کے بعد اب حنیف شریف کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے اور وہ جیل میں ہیں۔


13 --- عبدالواحد بزنجو، تحصیل تربت، بلوچستان، یکم مئی سال دو ہزار چھ:

لواحقین کے مطابق انہیں علی الصبح چار بجے سوتے ہوئے اٹھا کر سرکاری اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔ والد نے اس واقعہ کی پولیس تھانہ تربت میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔


14 --- رحمت اللہ کہدہ، تحصیل بلیدہ، بلوچستان، سات مئی سال دو ہزار چھ:

عینی شاہدین کے مطابق پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس کسی سرکاری ایجنسی کے اہلکار رات کے وقت ان کے گھر درجنوں گاڑیوں میں آئے اور انہیں پکڑ کر لے گئے۔ جب انہیں حراست میں لیا گیا تو گھر والوں کے شور سے کئی ہمسائے بھی جمع ہوگئے جو اس واقعے کے گواہ بتائے جاتے ہیں۔


15 --- ابراہیم صالح آسکانی، تحصیل مند، بلوچستان، انتیس نومبر دو ہزار پانچ:

انہیں کراچی میں ماری پور ٹرک اڈہ کے پاس سے اٹھایا گیا۔ ان کے کزن فاروق جمیل اور ایک دوست جمیل اس وقت ان کے ساتھ تھے۔ فاروق کو بھی گرفتار کیاگیا لیکن بعد میں چھوڑ دیاگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ان دونوں کو حراست میں لیا تھا۔ خاندان والوں کے مطابق ابراہیم کی اہلیہ نے ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے درج نہیں کی۔ انہوں نے رٹ درخواست کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے۔


16 --- گہرام صالح آسکانی، تحصیل مند، بلوچستان، آٹھ اگست دو ہزار چار:
گہرام صالح ابراہیم کے بھائی ہیں۔ انہیں تلار چیک پوسٹ پسنی ضلع گوادر سے سرکاری اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لیا۔ ان کے دوست جو اس وقت ان کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے اس واقعہ کے عینی گواہ ہیں تاہم اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تحصیل پسنی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بہرام کوانہوں نے پکڑ کر فرنٹئیر کانسٹیبلری کے حوالہ کیا جہاں سے انہیں آئی ایس آئی لے گئی۔ پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ اہل خانہ نے عدالت میں حبس بے جا کی درخواست دی ہوئی ہے۔ دونوں بھائیوں کا اب تک کوئی پتہ نہیں۔


17 --- مراد بخش مری، تحصیل ماوند، بلوچستان، دو فروری دو ہزار چھ:

ڈیرہ غازی خان (پنجاب) میں ایک ہوٹل میں دو اور تین فروری کی نصف شب کے بعد کھانا کھا کر باہر نکلے تو مبینہ طور پر ایک گاڑی میں سادہ کپڑوں میں ملبوس سرکاری اہلکاروں نے انہیں گرفتار کر لیا۔


18 --- میر مصری خان مری، کوہلو، بلوچستان، دو فروری دو ہزار چھ:
میر مصری خان جب اغوا کیئے گئے تو وہ قلات کے ایک کالج کے پرنسپل تھے۔ میر مصری ڈسٹرکٹ ناظم کوہلو علی غلام مری کے بھائی ہیں۔ علی غلام کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو اس لیئے اغوا کیا گیا ہے کہ انہوں نے بطور ناظم کوہلو یہاں پر ملٹری آپریشن کی مخالفت کی تھی۔


19 --- نیک محمد نیکو، اولڈ سوئی، بلوچستان، دو فروری دو ہزار چھ:

وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وارڈ نمبر چار، ابڑو محلہ، ڈیرہ مراد جمالی میں ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے جب رینجرز کے اہلکار مبینہ طور پر گھر میں گھس آئے، ان پر تشدد کیا اور انہیں اٹھا کر لے گئے۔ اسلم مگسی، گل حسن مگسی اور بقا محمد بگٹی عینی گواہ بتائے جاتے ہیں۔


20 --- اللہ داد مری، دالبدین، بلوچستان، انیس فروری دو ہزار چھ:

اللہ داد مری کے بھائی نادر بہاول خان کے مطابق پولیس اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے گھر پر دستک دی اور جب وہ باہر گئے تو وہ اللہ داد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔ انہوں نے پولیس کے روزنامچہ میں رپورٹ درج کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ ملٹری انٹیلی جنس کے میجر رضا انہیں پکڑ کر لے گئے۔ بعد میں اللہ داد مری کو عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں ایک سمگلر بتایا گیا جس کے پاس اسلحہ تھا۔ اس وقت ان کا نام حاجی خان بتایا گیا۔



پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مزید تین لاپتہ
اٹامک انرجی کے عتیق اور دو موٹر مکینک
میرے احساسات
حیات اللہ کو مددگار پایا: ہارون رشید
وہ کہاں گئے؟
گمشدہ بلوچ کارکنوں کا معمہ حل نہ ہو سکا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد