پراچہ کی رہائی کے لیئے درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ میں وزیر خارجہ خورشید قصوری اور وفاقی سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ درخواست گوانتانامو میں قید پاکستانی تاجر سیف اللہ پراچہ کی اہلیہ فرحت پراچہ نے دائر کی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے نو ستمبر دو ہزار تین کو پاکستان حکومت کو احکامات جاری کئے تھے کہ سیف اللہ پراچہ سمیت تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور بازیابی کو یقینی بنائےمگر حکومت نے تین سال سے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ عدالت میں بدھ کے روز درخواست کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے فرحت پراچہ کے وکیل سے معلوم کیا کہ عدالت کی تعطیلات میں یہ درخواست کی سماعت کیوں ضروری ہے۔ وکیل نثار احمد نے موقف اختیار کیا کہ صدر بش نے گوانتانامو میں قائم عقوبت خانہ بند کرکے قیدیوں کو ان کے ممالک بھیجنے کا عندیہ دیا ہےاگر یہ درست ہے تو ان کی موکلہ کو خدشہ ہے کہ ان کے شوہر کے معاملے میں امریکہ ایسا نہیں کریگا کیونکہ ان کا بیٹا عزیر بھی امریکہ میں قید ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ ان کے شوہر کو پاکستان کے حوالے نہ کیا جائے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نہ صرف توہین عدالت کے ملزمان کو سزا دی جائے بلکہ حکومت پاکستان کو ہدایت کی جائے کہ وہ فوری طور پر اپنے تمام سفارتی ذرائع استمال کرکے سیف اللہ کی رہائی کو یقینی بنائے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو چار جولائی کے لئے نوٹس جاری کردیئے۔ سیف اللہ پراچہ کراچی سے بینکاک جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے بعد میں پاکستانی حکام نے ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ باگرام میں امریکی قید میں ہیں جہاں سے بعد میں انہیں گوانتانامو منتقل کردیا گیا تھا۔ امریکہ نے ان پر اسامہ کے ساتھ راوبط رکھنے کے الزام عائد کیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ درخواست اس وقت دائر کی گئی ہے جب امریکہ کی سیکریٹری خارجہ جنوبی ایشیاء کے درورے پر ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستانی کے خلاف عدالتی فیصلہ24 November, 2005 | پاکستان ’دہشت گردی میں ملوث نہیں‘23 August, 2004 | پاکستان طالبان سے رابطے کی کوشش کی تردید18 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||