BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 November, 2005, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان سے رابطے کی کوشش کی تردید

کیرن ہیوز
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تعلقات عامہ کی نائب سیکریٹری آف سٹیٹ کیرن ہیوز۔
پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کچھ اعلی عہدیداروں نے مسلم لیگ نواز گروپ کے ایک رہنما سے ملاقات کر کے ان سے القائدہ اور طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کروانے کے لئے کہا ہے۔

تاہم مسلم لیگی رہنما جاوید ابراہیم پراچہ کا دعوی ہے کہ چند امریکی اعلی فوجی عہدیداروں نے ان سے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ملاقات کی ہے۔ ان کےمطابق اس ملاقات میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تعلقات عامہ کی نائب سیکریٹری آف سٹیٹ کیرن ہیوز بھی موجود تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں پاکستان کی خفیہ فوجی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سینیئر عہدیداربھی موجود تھے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی کیرن ہیوز سے کوئی بات نہیں ہوئی اور انہوں نے صرف امریکی فوجی عہدیداروں سے بات کی ہے۔

ادھر امریکی سفارتخانے کی تردید میں یہ تو کہا گیا ہے کہ کیرن ہیوز نے ان کو بلایا نہیں تھا اور نہ ہی امریکی حکومت نے ان سے القائدہ اور طالبان کے ساتھ بات چیت کے لئے کہا ہے مگر ساتھ ہی کسی امریکی عہدیدار کی جاوید ابراہیم پراچے سے ملاقات کی تردید نہیں کی ہے جس سے لگتا ہے کہ کسی سطح پر جاوید پراچہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ رابطہ کس نوعیت کا ہے اور اس میں کیا بات چیت ہوئی یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

جاوید ابراہیم پراچہ نے کوہاٹ سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چودہ نومبر کو ان کی دن ساڑھے بارے بجے بیس سے زائد امریکی حکومت کے عہدیداران سے ملاقات ہوئی جس میں انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ امریکی عہداروں نے ان سے مجاہدین اور امریکی حکومت کے درمیان ڈائیلاگ شروع کرنے کی استدعا کی۔

ان کے مطابق انہوں نے ان عہدیداران سے ملاقات میں کہا کہ وہ پہلے پاکستان کی حکومت سے اس بارے میں مشورہ کر کے انہیں بتائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے صوبہ سرحد کے کور کمانڈر جنرل حامد خان سے بھی اس سلسلے میں ملاقات کرنے کا دعوی بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیداران سے ان کی ملاقات چھ گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ جاوید پراچہ کا کہنا تھا کہ امریکیوں کا کہنا تھا کہ طالبان سے بات چیت کرنے کے لئے انہوں نے پہلے طالبان رہنما وکیل احمد متوکل اور بعد میں پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا ضعیف کو رہا کرے طالبان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔

جاوید ابراہیم پراچہ نائن الیون کے بعد سے پاکستان میں گرفتار کئے گئے عرب شدت پسندوں کے مختلف مقدمات لڑ رہے ہیں۔ ان پر سابق وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات اور موجودہ وزیر اطلاعات شیخ رشید نے شدت پسندوں کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔گذشتہ برس ان پر حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ کچھ گرفتار کئے گئے شدت پسندوں نے کہا تھا کہ جاوید ابراہیم پراچہ صدر پرویز مشرف کے گھر، ان کے دفتر ،فوجی ہیڈکوارٹراور امریکی سفارتخانے پر حملہ کرنے کی سازش میں شامل تھے۔ تاہم جاوید پراچہ نے اس کی تردید کی تھی۔

جاوید پراچہ کے مطابق امریکی عہدیداروں نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل سے بھی ملاقات کی ہے۔ تاہم جنرل حمید گل نے اس ملاقات کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں
صدر مشرف کو صدر بش کا فون
17 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد