BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 November, 2005, 03:23 GMT 08:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی کے خلاف عدالتی فیصلہ
عزیر پراچہ کو مارچ دو ہزار تین میں نیویارک کے ایک ٹیکسٹائل آفس سے گرفتار کیا گیا
امریکہ میں مین ہٹن کی ایک وفاقی عدالت نے 25 سالہ پاکستانی نوجوان عذیر پراچہ کو دہشت گردی کی سازش کرنے اور القاعدہ کی مدد کرنے سمیت پانچ الزامات کا مجرم قرار دیا ہے۔

عذیر پراچہ پر الزام ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے ایک مبینہ کارکن ماجد خان کو جعلی سفری دستاویزات پر امریکہ میں داخل ہونے میں مدد کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ امریکیوں پر حملہ کر سکیں۔

مین ہٹن کی وفاقی عدالت نے پانچ گھنٹے کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ عذیر پراچہ کو 15 سال تک کی قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اس سے پہلے عدالت میں اپنے بیان میں عذیر پراچہ نے کہا تھا کہ ان سے اقبالی بیان دباؤ کے تحت لیا گیا ہے۔

ان کے وکیل نے الزام لگایا ہے کہ ان کے مؤکل سے اقبالی بیان حاصل کرنے کے لیے انہیں بھوکا رکھا گیا اور انہیں سونے نہیں دیا گیا۔

اسی بارے میں
نعیم نور کیس، دوبارہ سماعت
25 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد