مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 |  عدالت نے گیارہ فروری تک تفصیل مانگی ہے |
لاہور ہائی کورٹ نے منگل کو وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کمپیوٹر کے ماہر نعیم نور خان کی تحویل اور ان کے خلاف الزامات کی تفصیل گیارہ فروری تک عدالت میں پیش کرے۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق چودھری نے عدالت کو بتایا کہ ان کو جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت دی جائے۔ اس پر عدالت کے جج جسٹس مزمل خان نے عدالت کی کارروائی گیارہ فروری تک ملتوی کر دی اور حکومت سے کہا کہ وہ جواب داخل کرنے میں مزید تاخیر نہ کرے اور اگلی پیشی تک نعیم نور خان کے بارے میں تفصیلات عدالت میں داخل کرے۔ پچیس سالہ نعیم نور خان کو گزشتہ سال تیرہ جولائی کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی اخبارات نے نعیم نور خان کی گرفتاری کو شہ سرخیوں میں شائع کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ القاعدہ کے کمپیوٹر نیٹ ورک کے اہم رکن ہیں۔ نعیم نور خان کے والد انجینیئر نور خان نے اپنے بیٹے کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں حبس بیجا کی پٹیشن داخل کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کو نعیم نور خان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے روکا جائے۔ |