جسٹس افتخار حسین پھر رہ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کو سپریم کورٹ کی چار خالی آسامیوں میں سے تین پر نئے ججوں کا تقرر کیا ہے اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ایک بار پھر سپریم کورٹ نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کے بعد کے دو سینئر ترین ججوں کو عدالت عظمیٰ میں مقرر کیا گیا ہے۔ جمعرات صدر مشرف نے صوبہ سرحد کے چیف جسٹس شاکر اللہ درانی اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس تصدق جیلانی کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ ان تقرریوں کے بعد اس سال جنوری میں سترہویں ترمیم کے نتیجے میں ججوں کی ریٹائرمینٹ سے خالی ہونے والی سپریم کورٹ کی چار آسامیوں میں سے ایک آسامی خالی رہ گئی ہے۔ ان تقرریوں سے پہلے قانونی حلقوں کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی تھیں کہ پنجاب کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سینیارٹی کے اصول کے تحت سپریم کورٹ جائیں گے یا ایک بار پھر ان سے جونیئر ججوں کو عدالت عظمیٰ بھیج دیا جائے گا جبکہ وہ چیف جسٹس کے نسبتاً زیادہ اہم سمجھے جانے والے عہدے پر بدستور کام کرتے رہیں گے۔ وکلاء تنظیموں نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں ججوں کے تقرر کے معاملہ پر اپنے تحفظات کا اظہار شروع کردیا تھا۔ بارہ جولائی کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس نے مطالبہ کیا تھا کہ مشہور ججز کیس کے انیس سو چھیانوے کے فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے صرف سینئر ترین ججوں کو سپریم کورٹ بھیجا جائے۔ انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ایسا نہ کیا جائے کہ کسی ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بجائے اس کے جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا جج بنا دیا جائے۔ انھوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حکومت افتخار چوہدری کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنائے رکھنا چاہتی ہے حالانکہ انھیں سینیارٹی کے اصول کے تحت سپریم کورٹ بھیجا جانا چاہیے تھا۔ انیس سو چھیانوے کے ججز کیس کے فیصلہ کے مطابق ججوں کی تقرری ، ترقی اور چیف جسٹس کے تقرر کے لیے حکومت کو چیف جسٹس آف پاکستان کے مشورہ کا پابند قرار دیا تھا تاہم انیس سو ننانوے تک بے نظیر اورنواز شریف کے دور اقتدار تک تو اس فیصلہ پر عمل ہوا لیکن جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور حکومت میں اس پر عمل نہیں ہوا۔ صدر جنرل مشرف دور میں جب سپریم کورٹ میں تقرریاں کی گئیں تو لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ججوں کو چھوڑ کر جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ بھیج دیا گیا اور اس وقت کی سینئر ترین جج فخرالنسا کھوکھر ، جو اب ریٹائر ہوچکی ہیں، کی بجائے جسٹس افتخار چوہدری کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنادیاگیا تھا۔ پاکستان میں ججوں کا تقرر ، ترقی اور اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس کا تقرر حکومتوں کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ رہا ہے اور اب ایک بار پھر یہ معاملہ نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||