BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ بلوچوں کی رہائی کے لیےمظاہرہ

بلوچ مظاہرہ
مظاہرین لاپتہ بلوچوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
کوئٹہ میں مری قبیلے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور ان لوگوں کومنظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے جو نہ تو پولیس کے پاس ہیں اور ناں ہی انھیں عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان سے سینکڑوں لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے اٹھایا گیا ہے۔

اس مظاہرے میں مری قبیلے کے بچے اور بوڑھے افراد شامل تھے۔ان لوگوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے زبردست نعرہ بازی کی ہے۔

ہاتھوں میں کتبے اور بینر اٹھائے یہ لوگ ان لوگوں کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر رہے تھے جنہیں بقول ان کے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے اور کئی کئی مہینوں اور سالوں سے ان کا پتہ نہیں ہے کہ وہ لوگ کہاں ہیں۔

وڈیرہ اصغر مری جان محمد مری اور دیگر کے رشتہ داروں نے کہا ہے کہ کسی کو کئی ماہ اور کسی کو سالوں گزر گئے ہیں۔ انھوں نے بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی ہے کہ ان لوگوں کی رہائی کے لیے اقدامات کریں۔

اس موقع پر موجود جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وہ اس وقت اس طرح کے کئی مقدمات کی عدالتوں میں پیروی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو چوبیس گھنٹے سے زیادہ حوالات میں اور چودہ دن سے زیادہ عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں رکھا جا سکتا لیکن یہاں تو ایجنسیاں سالوں سے لوگوں کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور کسی کو پرواہ بھی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ آج کوئٹہ پریس کلب میں ضلع کوہلو کے ناظم انجینیئر علی گل مری نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کو چار ماہ پہلے اٹھایا گیا ہے اور ابھی تک انہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

علی گل مری کے بھائی مصری خان مری ایلیمنٹری کالج قلات میں انیس گریڈ میں پرنسپل کے عہدے پر تعینات ہیں۔

گزشتہ دنوں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا تھا کہ بم دھماکوں اور راکٹ باری میں ملوث افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اگر تفتیش کے لیے اٹھایا ہے تو انہیں بے گناہ ثابت ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

علی گل مری نے کہا ہے کہ ان کے ضلع کو دس کروڑ روپے کے فنڈز نہیں دیے گئے جو تمام ضلعی حکومتوں کو دیے گئے ہیں اور کوہلو کے لیے اعلان کردہ پیکج غیر منتخب لوگوں کے توسط سے استعمال ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں
بلوچ استاد حراست میں ہلاک
22 April, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی میں واپسی
16 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد