بلوچستان تعیناتی پر خصوصی مراعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں وفاقی حکومت نے اپنے افسران کی تعیناتی کے لیئے خصوصی مراعات کا پیکیج منظور کیا ہے۔ بلوچستان کے چیف سیکریٹری کے بی رند نے پیر کے روز رابطہ کرنے پر بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’سی ایس پی افسران بلوچستان کے حالات کی وجہ سے یہاں ملازمت سے گریز کر رہے تھے اس لیے وفاقی حکومت نے متعلقہ صوبائی حکومت کی سفارشات پر مراعات کا خصوصی پیکیج منظور کیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ پیکیج کے مطابق ’ڈسٹرکٹ مینیجمینٹ گروپ یعنی ڈی ایم جی، پولیس سروس اور سیکریٹیریٹ گروپ کے جو بھی افسران بلوچستان میں تعینات ہوں گے انہیں اپنی جملہ تنخواہ کے علاوہ پچاس فیصد اضافی رقم بھی ملے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بلوچستان میں تعینات ہونے والے ہر افسر کو سال میں دو بار اہل خانہ سمیت فضائی سفر کے لیے مفت ٹکٹ بھی ملیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس بارے میں وزیراعظم کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں ایسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے اور وہ تمام وفاقی وزارتوں کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق بلوچستان میں تعینات ہونے والے افسران کو سال میں دو مفت فضائی سفر کے ٹکٹ کے علاوہ دو ٹکٹ پچاس فیصد تک رعایت پر انہیں دیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مقامی تنظیمیں آئے دن ریل کی پٹڑی پر بم نصب کرنے کے علاوہ بجلی کے کھمبوں کو اڑانے اور دیگر سرکاری تنصیبات پر راکٹ داغنے جیسی کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔ ان قبائلی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے صوبے کے لیے وفاق سے زیادہ اختیارات کے حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں اور شدت پسند کارروائیاں ان کی اس جدوجہد کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کچھ واقعات میں پنجابی زبان بولنے والے افراد کو بسوں سے اتار کر گولی مارنے اور چینی انجنیئرز کے قتل کے واقعات کے بعد وفاقی حکومت کے ملازمین اس صوبے میں ملازمت کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بدامنی کے علاوہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے بھی افسران یہاں تعیناتی سے گریز کرتے ہیں اور ایسی صورتحال میں ان ملازمین کو حکومت نے اس شورش زدہ صوبے میں تعیناتی کے دوران اضافی مالی مراعات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش جب پاکستان کا حصہ تھا اور سنہ اکہتر میں وہاں حالات خراب ہوئے تھے تو اس وقت بھی ’سی ایس پی‘ افسران نے مشرقی پاکستان جانے سے انکار کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’بلوچ آرمی کا کوئی وجود نہیں‘09 April, 2006 | پاکستان بلوچی ٹی وی کا ایم ڈی لاپتہ11 April, 2006 | پاکستان ’حکومت مخالف صرف3 سردارنہیں‘17 April, 2006 | پاکستان زمیندار مظاہرہ: دس زخمی،150گرفتار22 April, 2006 | پاکستان گمشدہ بلوچوں کا معمہ حل نہ ہو سکا01 May, 2006 | پاکستان بلوچستان: گرفتار ہونے والا کون ہے؟27 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||