BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 06:56 GMT 11:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمیندار مظاہرہ: دس زخمی،150گرفتار

کوئٹہ
بجلی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے: مظاہرین
کوئٹہ چمن شاہراہ پر زمینداروں کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے کم سے کم دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ افراد بلوچستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

کوئٹہ میں پولیس نے احتجاج کی غرض سے روڈ بلاک کرنے کے الزام میں لگ بھگ ڈیڑھ سو زمینداروں کو حراست میں بھی لیا ہے۔ بلوچستان کے زمینداروں نے ہفتے کو احتجاجاً صوبے بھر میں سڑکیں بلاک کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

کوئٹہ چمن شاہراہ پر یارو کے مقام پر پولیس نے زمینداروں کا احتجاج ختم کرانے اور سڑک کھلوانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے جس کے بعد فائرنگ ہوئی۔

ضلع پشین کے رابطہ افسر عصمت اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ چند لوگ معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہستپال پہنچایا گیا ہے۔ عصمت اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق پولیس نے فائرنگ نہیں کی ہو سکتا ہے کہ مظاہرین نے خود فائرنگ کی ہو تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا ئیں گی۔پشین میں پولیس حکام سے رابطہ نہیں ہو رہا جبکہ تھانے پشین اور یارو کے تھانوں میں موجود اہلکار تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

پشین کے سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرازق نے کہا ہے کہ کُل دس زخمی لائے گئے ہیں جن میں سے کچھ کو ٹانگوں اور ہاتھوں پر گولیاں لگی ہیں لیکن سب خطرے سے باہر ہیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوئٹہ غلام محمد ڈوگر نے بتایا ہے کہ احتجاجی زمینداروں کو لکپاس اور دشت کے قریب سے حراست میں لیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر زمینداروں نے مزاحمت کی کوشش کی ہے۔ صوبے کے بعض علاقوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔ نوشکی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے اور ڈگری کالج کے قریب روڈ بلاک کیا گیا ہے۔

زمیندار ایکشن کمیٹی کے سربراہ تاج آغا نے کہا تھا کہ وہ صوبے میں بجلی کی مکمل طور پر بحالی کے لیے احتجاج کرتے رہیں گے۔

بجلی فراہم کرنے والے محکمے کے حکام نے کہا ہے کہ زمینداروں کو روزانہ آٹھ گھنٹے کے لیے بجلی فراہم کی جارہی ہے اور اب مرمت کا کام ہورہا ہے جس کے بعد جلد ہی مکمل بجلی فراہم کر دی جائے گی۔

بلوچستان میں بجلی کا مسئلہ کھمبوں پر حملوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ زمینداروں نے کہا ہے کہ انہیں اس کا علم نہیں ہے کہ یہ حملے کون کررہا ہے تاہم ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

کچھ روز پہلے ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ ممنوعہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ ہے اور بجلی کے کھمبوں پر حملے وہ پینتالیس دنوں کے لیے روک رہے ہیں۔ میرک بلوچ نے کہا کہ یہ فیصلہ صوبے کے لوگوں اور زمینداروں کے لیے کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں زمیندار بجلی کی لوڈ شیڈ نگ کے خلاف گزشتہ تین ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے زمینداروں نے کوئٹہ کو صوبے اور ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والی تمام شاہراہوں اور ریل کی پٹڑیوں کو بطور احتجاج بلاک کردیا تھا جس سے بسیں اور ریل گاڑیاں رک گئی تھیں۔

اسی بارے میں
بجلی کی تنصیبات پر دھماکہ
28 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد