بجلی کی تنصیبات پر دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ اور کولپور کے مابین نا معلوم افراد نے بجلی کے ایک کھمبے کو دھماکے سے نقصان پہنچایا ہے لیکن اس سے بجلی کی ترسیل متاثر نہیں ہوئی ہے۔ کوئٹہ سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور کولپور کے پاس بجلی کے پول نمبر تین سو چھیانوے کے دو حصوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے جبکہ دو حصے محفوظ رہے ہیں۔ بجلی کے محکمے کے ترجمان جبرائیل خان نے بتایا کہ یہ ایک سو بتیس کے وی کی ڈبل سرکٹ لائن ہے۔ یہاں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ دھماکہ گزشتہ روز کیا گیا ہے لیکن محکمے کے اہلکاروں کو اس کا علم پیر کو ہوا ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ جبرائیل خان نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ دھماکہ کب اور کس وقت ہوا ہے تاہم گزشتتہ روز گشت کے دوران اس کا علم ہوا کہ بجلی کے کھمبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ زیادہ تر پول دور دراز پہاڑوں ارو ویرانوں میں اس لیے اس کا علم نہیں ہو سکا۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی تنصیبات پر دھماکے معمول سے ہو رہے ہیں جس کے بعد بجلی کے محکمہ کے حکام اور حکومت نے یہ دعوے کیے ہیں کہ ان تنصیبات کی حفاطت کے لیے سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکام ان تنصیبات کی حفاطت تو دور کی بات یہ علم نہیں رکھتے کہ کہاں کتنا نقصان ہو چکا ہے۔ ادھر گزشتہ روز کوہلو کے علاقے میں ایک ٹرک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا تھا جس سے ڈرائیور اور کلینر زخمی ہو گئے تھے اور ٹرک کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں پانچ دھماکے20 April, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں گرفتاریاں07 September, 2005 | پاکستان کوئٹہ: قتل پر اہل تشیع کا احتجاج 11 August, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں سرکاری ملازم ہلاک14 September, 2005 | پاکستان کوئٹہ جیل، قیدی گنجائش سے دگنے01 October, 2005 | پاکستان کوئٹہ: ’فرقہ واریت‘ میں ایک ہلاک26 October, 2005 | پاکستان کوئٹہ زلزلے کے لیے تیار نہیں: مقررین23 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||