کوئٹہ میں گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں سریاب روڈ پر فائرنگ کے واقعہ کے حوالے سے پولیس نے بیس افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قبائلی لیڈر ودود رئیسانی کی والدہ نے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران ان کے بندے مسلح نہیں تھے اور یہ کہ ان کا کوئی بندہ اب تک گرفتار نہیں ہوا ہے۔ پولیس نے سریاب روڈ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا ہے جس میں کچھ معلوم اور کچھ نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا گیا ہے۔ سینیئر سپرانٹنڈنٹ پولیس پرویز ظہور نے کہا ہے کہ بیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں دو افراد اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرفتارشدگان میں سے ایک کو حملے کے وقت شناخت کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں مزید تحقیقات کر رہی ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کل ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتایا تھا اور کہا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے تو انہوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ دریں اثناء قبائلی لیڈر ودود رئیسانی کی والدہ نے کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز مظاہرے کے وقت ان کے لوگ غیر مسلح تھے یہاں تک کہ کسی کے پاس ایک چاقو بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ انتظامیہ کی چال ہے تاکہ ودود رئیسانی کو دبایا جائے اور بے بنیاد مقدموں میں ملوث کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں ان کا کوئی شخص نہ زخمی ہوا ہے اور نہ ہی کوئی اب تک گرفتار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضرور ہوا ہے کہ پولیس ان کے گھروں اور علاقے میں چھاپے مار رہی ہے جس سے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سریاب روڈ پر ودود رئیسانی کی تین ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف رئیسانی قومی تحریک کے لوگوں نے احتجاجاً کوئٹہ کراچی روڈ بلاک کردی تھی۔ اسی دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین مذاکرات جاری تھے کہ نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکے اور فائرنگ شروع کردی جس سے تیس کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں اٹھارہ پولیس اہلکار تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||