BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 September, 2005, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ حملہ: ایک ہلاک 32 زخمی

کوئٹہ شہر
اس حملے میں زخمی ہونے والے زیادہ تر پولیس کے اہلکار ہیں
کوئٹہ میں سریاب روڈ پر دستی بم کے دھماکوں اور فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور بتیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں اٹھارہ پولیس اہلکار شامل ہیں۔

منگل کی صبح ایک قبائلی لیڈر کے حمایتی افراد نے کوئٹہ کراچی شاہراہ بلاک کر دی تھی۔ قبائلی لیڈر ودود ریئسانی کو گزشتہ روز تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ۔ مظاہرین ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بعد دوپہر پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے کھڑے تھے کہ اچانک نامعلوم شخص نے دستی بم پھینکے جس کے بعد دونوں طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی۔

سول ہسپتال میں ایک سپرینٹنڈنٹ پولیس، دو ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او سمیت اٹھارہ پولیس اہلکار زخمی حالت میں لائے گئے ہیں۔ زخمی ایس پی وزیر خان ناصر نے کہا ہے کہ شر پسند عناصر نے روڈ بلاک کر رکھی تھا جس سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی تھی پولیس کی تعیناتی پر مظاہرین نے دستی بم پھینکے اور فائرنگ شروع کر دی۔

مظاہرین نے سریاب روڈپر روڈ بلاک کیا تھا جہاں قریب آبادی بھی اس فائرنگ سے متاثر ہوئی ہے۔ زخمیوں میں قریبی دکاندار بچے اور بوڑھے شامل تھے۔

اس دھماکے میں زخمی ہونے والے دکاندار رمضان نے کہا ہے کہ وہ دکان بند کر رہا تھا کہ اچانک دھماکہ ہوا جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ ناصر نے بتایا ہے کہ پولیس اور مظاہرین مذاکرات کر رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا ہے جس سے موقع پر موجود بچے اور باقی لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے سول ہسپتال میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے جنھیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اب صوبہ بلوچستان کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی قسم کے احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مظاہرین سے سختی سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے ہلاک ہونے والے اہلکار کے لیے دو لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے پچاس پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء ایک نا معلوم شخص نے صحافیوں کو ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ ہ بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ میرک بلوچ نے کہا ہے کہ انھیں جب کبھی بھی اس طرح کا موقع ملے گا وہ ضرور کارروائی کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد